خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 455

خطبات محمود ۴۵۵ جلد سوم ہو گئے تھے مگر اس کے اظہار کی اجازت نہ دی گئی تھی۔پھر جب خلیفہ اول نے بیعت لی تو شاہ صاحب نے کہا کہ میں کب تک بیعت کو مخفی رکھوں گا۔اس پر ان کو علی الاعلان بیعت کرنے کی اجازت دے دی گئی اور انہوں نے جب بیعت کی تو میرے پاس ہی بیٹھے تھے۔پھر لڑکی کی دادی اخلاص میں اپنے خاوند سے بھی بڑھی ہوئی تھیں۔وہ بہت زیادہ نیک اور احمدیت سے بہت اخلاص رکھنے والی تھیں پس اس لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک پرانے دوست کی پوتی کی شادی ہے زیادہ توجہ اور دلچسپی کا باعث ہے۔پھر اس لحاظ سے کہ لڑکی کی دادی اعلیٰ درجہ کی نیک اور مخلص احمدی خاتون تھیں دو ہرا تعلق اس سے ہے۔سید منظور علی شاہ صاحب کے والد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ اوائل کے واقف تھے ان کے تعلقات ملک غلام محمد صاحب کے والد صاحب کے ساتھ بہت گہرے تھے۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت ملک صاحب بھی آئے ہوئے ہیں۔شاہ صاحب ایام جوانی میں لاہور نوکر تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب لاہور جاتے تو ان کے پاس ٹھہرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مقدمہ ہارنے کا جو واقعہ لکھا ہے اس میں انہی کا ذکر ہے۔آپ مقدمہ کا فیصلہ سننے کے لئے لاہور گئے ہوئے تھے اور روزانہ چیف کورٹ میں جاتے تھے۔ایک دن خوش خوش واپس آئے تو شاہ صاحب نے کہا کیا مقدمہ جیت آئے؟ آپ نے فرمایا مقدمہ تو نہیں جیتا مگر اچھا ہوا حکم سنا دیا گیا کیونکہ وہاں جانے کی وجہ سے نمازیں پڑھنے میں تکلیف ہوتی تھی۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ابھی دعوئی نہ کیا تھا۔شاہ صاحب نے غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا آپ کے باپ کا اتنا بڑا نقصان ہو گیا ہے اور آپ خوش ہو رہے ہیں۔اس سے ظاہر ہے کہ نہایت ابتدائی زمانہ سے شاہ صاحب کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلقات تھے اور بہت محبت رکھتے تھے۔آج ان کی پوتی کی شادی ہے۔الفضل ۲۴ دسمبر ۱۹۳۷ء صفحه ۵۴) ل الحشر : 19