خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 424

خطبات محمود مهموم جلد سوم ہے پانچ چھ سال کی عمر ہوتی ہے اس وقت نہ تو باپ اس کی اصلاح اور نگرانی کر سکتا ہے اور نہ وہ اس عمر میں کسی استاد یا آداب سکھانے والے کے پاس جا سکتا ہے جس سے وہ اخلاق سیکھے صرف ماں جس کے پاس وہ ہر وقت رہتا ہے اس کی نگرانی کر سکتی ہے۔اگر ماں بچے کے سامنے جھوٹ بولے گی تو بچہ بھی جھوٹ بولنا سیکھ لے گا اور اگر ماں چوری کرے گی تو بچہ بھی چوری کرنا سیکھ جائے گا اور اگر ماں دین سے بے پروائی اور غفلت اختیار کرے گی تو بچہ بھی دین سے بے پرواہ اور غافل ہو جائے گا۔لیکن اگر ماں اس کے سامنے سچ بولے گی تو بچہ بھی سچ بولنے کا عادی ہو گا، اگر ماں دوسروں سے ملتے وقت اخلاق فاضلہ سے پیش آئے گی تو بچہ میں بھی اخلاق فاضلہ پیدا ہو جائیں گے ، اگر ماں غریبوں اور مسکینوں پر رحم کرے گی تو بچہ میں بھی رحم کا مادہ پیدا ہو جائے گا، اگر ماں دیندار اور تقویٰ شعار ہوگی تو بچہ بھی دیندار اور تقویٰ شعار ہو جائے گا غرض ماں کی تربیت پر ہی بچہ کے مستقبل کا انحصار ہوتا ہے اور رسول کریم ﷺ کے ارشاد کا کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے یہی مطلب ہے کہ دنیا میں کئی مائیں ایسی ہوتی ہیں جو بچوں کی اچھی تربیت نہیں کرتیں بلکہ بجائے درست کرنے کے بگاڑ دیتی ہیں مذہب سے لا پرواہ بنا دیتی ہیں ایسی ماؤں کے قدموں کے نیچے جنت کا ہونا کوئی معنے نہیں رکھتا۔جو اولاد ا چھی نہ ہو لوگ اس کی ماں کو برا کہیں گے اور اگر اولاد اچھی ہو تو لوگ اس کی ماں کی تعریف کریں گے کیونکہ ابتدائی تربیت جس کا اثر بعد کی زندگی پر پڑتا ہے ماں ہی کرتی ہے باپ کا نام اس لئے نہیں لیا جاتا کہ اسے نگرانی کے لئے موقع بہت کم ملتا ہے مگر ماں کو ہر وقت نگرانی اور اصلاح کرنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔وہ ہر وقت بچہ کے ساتھ رہتی ہے اور بچہ بھی ہر وقت ماں کی امداد کا طالب ہوتا ہے۔بچہ ہر وقت اپنی ماں کا سلوک اور محبت دیکھتا ہے پھر وہی عادات جو اس کی ماں ہوتی ہیں خواہ اچھی ہوں یا بڑی اس بچہ میں پیدا ہو جاتی ہیں۔انسانی زندگی میں شادی کو اسی لئے پوشیدہ قرار دیا جاتا ہے کہ اس کے ذریعہ انسان میں ایسا اہم تغیر پیدا ہو جاتا ہے جس کا بعد میں آنے والی زندگی پر بہت بڑا اثر پڑتا ہے۔جن ملکوں میں مرد اور عورت ایک دوسرے سے واقفیت پیدا کر کے اور ایک دوسرے سے ملنے کے بعد شادی کرتے ہیں وہ اخلاق کو نہیں دیکھتے بلکہ یا تو حسن دیکھتے ہیں یا شہوت کو پورا کرنا ان کے مد نظر ہوتا ہے۔خوبصورتی کا چونکہ طبائع پر گہرا اثر پڑتا ہے اس لئے وہ حسن کو ترجیح دیتے ہیں۔