خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 408

خطبات محمود ۲۰۸ جلد سوم مجھے کیا فائدہ پہنچے گا اور خود ان کو میری بیعت سے کیا نفع ہو گا۔سمجھوتہ دنیوی معاملات میں ہو سکتا ہے، تمدنی مسائل میں ہو سکتا ہے، سیاسی مسائل میں ہو سکتا ہے، اقتصادی مسائل میں ہو سکتا ہے مگر دین کے متعلق کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔مباح اس امر کو کہتے ہیں کہ جس کے بارے میں اجازت ہوتی ہے کہ خواہ کر دیا نہ کرو۔ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو ایسے امور میں بھی لوگوں کی خوشنودی چاہنے کی اجازت نہیں دی گئی جو مباح تھے۔چنانچہ قرآن کریم میں ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے جس کی تفصیل حدیثوں میں یوں آتی ہے کہ آپ ایک دفعہ شہد کھا کر گھر گئے تو آپ کی دو بیویوں نے کہا تھا کہ آپ کے منہ سے بو آتی ہے۔آپ نے فرمایا کہ میں آئندہ شہد نہیں کھایا کروں گا۔اس پر اللہ تعالٰی نے فرمایا - لم تُحرم ما احل الله لا۔نہ آپ اللہ تعالی کی حلال کی ہوئی شے کو حرام کیوں کرتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے تو مباح میں سمجھوتہ کرنے کی رسول کریم اللہ کو اجازت نہیں دی چہ جائیکہ عقائد کی تبدیلی میں صلح کی اجازت دے۔ہمارا فریق مخالف در حقیقت خود چونکہ سابقہ عقائد کو چھوڑ چکا ہے۔اس پر یہ بات گراں نہیں گزرتی کہ دوسروں کو بھی یہ کہے کہ تم اپنے عقائد میں تبدیلی کرلو۔یہ خیال ان کے ایمان سے نا آشنا ہونے کے باعث پیدا ہو گیا ہے ور نہ ایک مومن یہ کبھی نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا آپ نے دعوئی کرنے میں غلطی سے کام لیا ہے۔اگر آپ پہلے مولویوں کے سامنے یہ بات پیش فرماتے کہ اسلام کی حالت حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات کے عقیدہ کی وجہ سے سخت خطرہ میں ہے۔مسلمان روز بروز کم ہو رہے اور عیسائی بن رہے ہیں اس کا علاج بتا ئیں تو اس وقت سب کے سب یہ کہہ دیتے کہ اس کا علاج آپ ہی سوچیں۔پھر آپ ان کو اس کا علاج یہ بتاتے کہ قرآن مجید سے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ثابت ہے۔اس پر سب مولوی کہتے کہ بہت اچھی بات آپ نے سوچی ہے۔پھر دوسرا امران مولویوں کے سامنے یہ پیش فرماتے کہ حدیثوں میں عیسی کے آنے کا ذکر ہے، غیر مسلم قومیں اگر اس پر معترض ہوں تو اس کا کیا جواب ہو گا۔اس وقت بھی مولوی یہ کہتے کہ آپ ہی اس کا جواب ہمیں بتائیں آپ جواب میں یہ فرماتے کہ عیسی سے مراد وہ عیسی نہیں جو ایک دفعہ دنیا میں آچکا ہے بلکہ عیسی سے مراد مثیل عیسی ہے۔پھر تیسرا امریہ پیش فرماتے کہ حدیثوں میں عیسی کے زمانہ کے متعلق جو علامات بیان ہوئی ہیں ان