خطبات محمود (جلد 3) — Page 374
خطبات محمود ۳۷۴ جلد سوم شادی عشق الہی سکھانے کا مدرسہ ہے فرموده ۱۱- جنوری ۱۹۳۶ء) جنوری ۱۹۳۶ء بعد نماز عصر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے جناب مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کی دو صاجزادیوں صفیہ بیگم اور زینب بی بی کا نکاح پانچ پانچ سو روپیه مهر پر علی الترتیب غلام محمد ابن میاں مہتاب دین صاحب اور احمد خان ابن حکیم محمد اسماعیل صاحب سکنہ ہائے پیر کوٹ ضلع گوجرانوالہ سے پڑھا۔لے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : شادیوں کا معاملہ محبت کی بنیاد کے قیام کے لئے ہے میاں بیوی کی محبت در حقیقت خدا ہی کی محبت کا ظل ہے۔شادی ایک مدرسہ ہے جہاں خدا تعالیٰ کے عشق کا سبق پڑھایا جاتا ہے۔انے صوفیاء میں سے بعض کے متعلق بعض اقوال سے پتہ لگتا ہے کہ انہیں محبت مجاز نے عشق حقیقی کی راہ دکھلائی۔اس میں لوگوں نے مبالغہ کر لیا اور اس کی اصل صورت کو بگاڑ دیا۔ہے اور بعض لوگوں کی طرف سے یہ باتیں ایسے طور پر پیش کی گئی ہیں جس سے ان کی پوزیشن تاریک ہو جاتی ہے۔کیونکہ جس عشق مجازی کو روایات میں پیش کیا جاتا ہے وہ اتنی گھناؤنی اور مکروہ چیز ہے کہ اسے عشق حقیقی کا پیش رو قرار دینا عقل کے خلاف ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ ماں باپ اور بچوں کا تعلق اور میاں بیوی کا تعلق ایک مدرسہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے عشق کے حقیقی کا سبق دیا جاتا ہے اور جب خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ ایسے سامان موجود ہیں جو محبت کا سبق محبت کی جائز اور طبعی صورت میں پیش کرتے ہیں تو پھر کسی اور صورت کا پیدا کرنا جو نا جائز ہو