خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 352

خطبات محمود ۳۵۲ تواند توهم کہ آج قربانی کر کے ہم مرغ کھالیتے ہیں۔اگر کوئی ایسا کہتا ہے تو دو باتوں میں سے ایک ضرور ہوگی یا تو وہ فریب خوردہ ہے یا پاگل ہو گا کیونکہ یا تو پاگل یہ کہہ سکتا ہے کہ دال چھوڑ کر پلاؤ وغیرہ کھانا قربانی ہے یا فریب خوردہ شخص جو اصلیت سے ناواقف ہو اس طرح کہہ سکتا ہے۔اگر دین کوئی قیمتی شے ہے، اگر دنیا کا ایک خدا ہے تو جب خدا تعالی کی طرف سے ایک منادی پکارتا ہے کہ آؤ اور خدا کے دین پر جمع ہو جاؤ تو اس آواز پر لبیک کہنے والا قربانی نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے احسان اور اس کے لطف وکرم سے حصہ پاتا ہے اور اگر وہ ایک منٹ کے لئے بھی سمجھتا ہے کہ قربانی کر رہا ہے تو وہ منافق ہے۔پس اگر تم میں سے کوئی شخص یہ خیال کرتا ہے کہ وہ دین کی خدمت کر کے قربانی کر رہا ہے تو اس کا کوئی ایمان نہیں اس کو اس راستہ سے ہٹ جانا چاہئے۔لیکن اگر دنیا جس کو ذلت سمجھتی ہے تم اسے عزت سمجھو، جس کو دنیا بریکاری خیال کرتی ہے تم اسے کام سمجھو اور جسے وہ قربانی سمجھتی ہے اسے تم انعام قرار دو تب تم حقیقی معنوں میں مومن کہلا سکتے ہو۔کیا وہ جرنیل جس کے ہاتھوں پر جرمن فتح ہوا یہ سمجھتا تھا کہ جرنیل بن کر اس نے قربانی کی۔اگر دنیاوی جرنیل اپنے عہدوں پر قائم ہو کر کام کرنا قربانی نہیں سمجھتے تو وہ لوگ جن کے سپرد قلوب کی فتح ہو وہ کیونکر اپنے کاموں کو قربانی قرار دے سکتے ہیں۔کیا انگریزوں میں سے ہیں اور جرمنوں سے ہنڈن برگ کی جگہ اگر کوئی شخص کام کرنا چاہتا ہے تو وہ اسے قربانی سمجھتا۔میں سمجھتا ہوں اس اعزاز کے حاصل کرنے کے لئے اگر ممکن ہو تا تو ہر شخص اپنی آدھی عمر نذر کے طور پر پیش کر دیتا۔اسی طرح ممکن ہو تا تو وہ اپنی بیوی اور بچوں کی جان پیش کر کے بھی اس درجہ کو حاصل کرتا اور پھر اسے اپنی قربانی قرار نہ دیتا۔اگر دنیوی جرنیلوں کے مقام پر کھڑا ہونا انعام سمجھا جاتا ہے تو کیا خدا تعالی کے جرنیلوں کے مقام پر کھڑا ہونا قربانی کہلا سکتا ہے۔پس وہ شخص جو دین کی خدمت کر کے اسے قربانی قرار دیتا ہے وہ خدا تعالیٰ کا منہ چڑاتا ہے اور اس کی ہتک کرتا ہے گویا نعوذ باللہ من ذالک خدا تعالٰی کا انعام تو معمولی چیز ہے مگر شخص کی جان کی بہت بڑی قیمت ہے کہ وہ اپنی کوششوں کو وقیع قرار دیتا ہے اور خدا تعالیٰ کے انعام کو چھوٹا سمجھتا ہے۔خدا تعالیٰ اسے ہفت اقلیم کی بادشاہت سے بھی زیادہ انعام دیتا ہے مگر وہ انعام کو نہیں دیکھتا اور اپنی معمولی کوششوں کو قربانی اور ایثار سمجھنے لگ جاتا ہے۔پس یہی نہیں کہ تم سے امید کی جاتی ہے کہ تم مغربیت سے علیحدہ رہو گے ، تم سے امید کی جاتی ہے کہ تم دین اسلام کا جھنڈا ہمیشہ بلند رکھو گے ، تم سے امید کی جاتی ہے کہ تم نوع انسان کے خیر خواہ رہو اس