خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 339

خطبات محمود ۳۳۹ جلد دوم تھے ، پہلے بھی ایسے لوگ تھے جو وحی الہی کو تسلیم نہ کرتے تھے ، پہلے بھی ایسے لوگ تھے جو فسق و فجور میں مبتلاء رہتے تھے۔اور پہلے بھی ایسے لوگ تھے جو دین سے بے اعتنائی کرتے تھے اور بد اخلاقیوں کے مرتکب ہوتے تھے ، پھر وہ کیا چیز ہے دجالی فتنہ میں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا آدم سے لے کر قیامت تک کوئی فتنہ اس سے بڑا نہیں ہو گا۔کوئی چیز اس فتنہ میں ہونی چاہئے جو پہلے دنیا میں موجود نہیں تھی۔اس حقیقت کے معلوم کرنے کے لئے جب غور کرتے ہیں تو ہمیں دو چیزیں ایسی نظر آتی ہیں جو پہلے فتنوں میں موجود نہیں تھیں۔ایک تو یہ کہ پہلے زمانہ میں جو فتنے پیدا ہوتے تھے وہ مقامی ہوتے تھے مثلاً ہندوستان کا فتنہ مستقل ہو تا تھا وہ ایرانی فتنے سے متاثر نہیں ہوتا تھا اور ایرانی فتنہ مستقل ہو تا تھا وہ یونانی فتنہ سے متاثر نہیں ہو تا تھا، اسی طرح مصری فتنہ مستقل ہو تا تھا جو یونانی اور ایرانی فتنہ سے متاثر نہیں ہوتا تھا اس وجہ سے ان فتنوں کا دین پر متفقہ حملہ نہیں ہو تا تھا بلکہ ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہوتی تھی جیسے ایک ملک میں ڈاکو لوٹ مار کر رہے ہوں اور کچھ ایک طرف سے حملہ آور ہوں کچھ دوسری طرف سے۔ڈاکوؤں سے ملک کا امن بے شک خطرہ میں پڑ جائے گا مگر حکومت تباہ نہیں ہوگی حکومت منظم طاقتوں سے تباہ ہوا کرتی ہے۔پس پہلے فتنوں اور موجودہ فتنہ میں فرق یہ ہے کہ یہ فتنہ ایک منظم تحریک کے ماتحت اپنا اثر پھیلا تا جارہا ہے۔جاپان کو عیسائی نہیں مگر اس کے خیالات کی رو یورپ کے تابع ہے، چین کو عیسائی نہیں مگر اس کے خیالات یورپ کے تابع ہیں۔اسی طرح ایران ہندوستان، ترکستان اور عرب عیسائی نہیں ظاہر ا مسلمان ممالک ہیں مگر ان کے خیالات کی رو یورپ کے تابع ہے۔غرض موجودہ زمانہ میں تمام تحریکات ایک ملک میں پروئی ہوئی اور ایک نظام کے ماتحت نظر آتی ہیں جس سے اس فتنہ کی مصیبت بہت بڑھ گئی ہے۔پہلے انسان یہ خیال کرتا تھا کہ ایرانی یا یونانی کہتے ہے مگر اب یہ کہا جاتا ہے دنیا کا ہر معقول انسان یوں کہتا ہے۔پہلے اگر کسی کے سامنے یہ کہا جاتا تھا کہ ایرانیوں کا یہ عقیدہ ہے تو سننے والا دل میں یہ کہہ سکتا تھا کہ شاید باقی دنیا کا عقیدہ اس کے خلاف ہو وہ مرعوب نہ ہوتا تھا اور عملاً بھی ایسا ہی ہوتا تھا یعنی ایک وقت میں ایک ہی بدی سارے عالم میں پھیلی ہوئی نہ ہوتی تھی۔کسی ملک میں کوئی بدی ہوتی تھی تو کسی میں کوئی۔اگر ہندوستان میں دہریت کی رو تھی تو ایران میں بد عملی کی رو تھی، یونان میں فلسفہ کی رو تھی تو مصر میں مشرکانہ خیالات کی رو تھی۔پس ان کے اعتراض میں یکسانیت نہیں تھی اور مخالفت میں تنظیم نہیں پائی جاتی تھی۔لیکن اس زمانہ میں تمام خیالات