خطبات محمود (جلد 3) — Page 310
جلد سوم ۳۱۰ ۸۴ نکاح ایک وسیع الاثر معاہدہ ہے (فرموده ۲۹ جنوری ۱۹۳۳ء) ۲۹- جنوری ۱۹۳۳ء بعد نماز عصر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے باوجود ناسازی طبع حکیم فضل الرحمن صاحب کے گھر تشریف لے جاکر ان کی ہمشیرہ کا نکاح پڑھا۔خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔دنیا میں ہر ایک معاہدہ کہ نکاح بھی ایک معاہدہ ہی ہے دو سرے سے جداگانہ حیثیت رکھتا ہے ایک شخص میوه فروش کی دکان پر جاتا ہے اور اس سے کچھ میوہ خریدتا ہے ان کا جو یہ لین دین ہوتا ہے اس کا اثر چند گھنٹوں کے اندر اندر ختم ہو جاتا ہے۔وہ میوہ اچھا ہو گا یا برا، لذیذ ثابت ہو گا یا بدمزہ، وہ صحت پیدا کرنے والا ہو گا یا صحت کو نقصان پہنچانے والا عام طور پر اس کا اثر محدود ہوتا ہے۔اگر لذت یا بد مزگی کا سوال ہو تو چند ساعت کے اندر اندر اس کا اثر زائل ہو جاتا ہے۔اگر صحت یا بیماری کا سوال ہو تو وہ بھی تھوڑے عرصہ کے اندر ہی ختم ہو جاتا ہے۔الا ماشاء اللہ۔کوئی وبائی کیڑے میوہ میں داخل ہو گئے ہوں تو اور بات ہے۔اسی طرح ایک خص جو دکان سے ترکاری خریدے گا اس کا اثر میوہ سے زیادہ ہو گا گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ دو گھنٹہ تو اس ترکاری کو پکانا پڑے گا پھر کھانے اور اس کے ہضم ہونے تک اس سے تعلق قائم رہے گا پھر جو شخص کپڑا خریدے گا اس کا ان کپڑوں سے تعلق چھ ماہ سال دو سال تک رہے گا۔پھر جو مکان بنائے گا اس مکان سے تعلق حسب مراتب پچاس، سوڈیڑھ سو سال رہے گا۔لیکن شادی ایک ایسا فعل ہے کہ اس کا اثر لیبے زمانہ تک چلتا ہے اور ہوتا بھی وسیع ہے۔بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ -