خطبات محمود (جلد 3) — Page 273
خطبات محمود ۲۷۳ ۷۳ جلد سوم مسلمانوں اور دوسروں کے نکاح میں فرق فرموده ۹ - مارچ ۱۹۳۰ء) - مارچ ۱۹۳۰ء کو بعد نماز عصر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے مولوی غلام محمد خان صاحب بی اے سینئر ٹیچر گورنمنٹ ہائی سکول کہروڑ پکا ضلع ملتان کا نکاح امتہ العزیز بیگم بنت قاضی عبدالرحیم بھٹی قادیان کے ساتھ دو ہزار روپیہ حق مہر پر پڑھا۔لے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- رسول کریم ﷺ نے دنیا میں ایک ایسا تغیر پیدا کیا ہے جسے خدا تعالٰی نے ہی ان الفاظ میں ط بیان فرمایا يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ۔۔ے یعنی آپ دنیا میں زندگی پیدا کرنے کے لئے آئے تھے۔ایک حیات وہ ہوتی ہے جو اللہ تعالی کی طرف سے آتی ہے۔بندے کا اس میں کوئی اختیار نہیں ہوتا۔وہ حیات بندہ نہ بغیر اذن اللہ کے اور نہ باذن اللہ دے سکتا ہے۔بعض نادان اپنے شرک پر پردہ ڈالنے اور اپنی وثنیت کو چھپانے کے لئے اذن اللہ کی آڑ لے لیتے ہیں مگر یہ بات بھی اللہ تعالیٰ کی شان سے بعید ہے کہ وہ کسی اور کو یہ حیات بخشنے کی اجازت دے دے۔اس طرح تو پھر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالٰی اپنے اذن سے اپنے لئے بیٹا، بیٹی یا بیوی بنا سکتا ہے۔لیکن جس طرح ہم ان باتوں کو جائز نہیں سمجھتے اسی طرح یہ بات بھی نا جائز ہے کہ وہ اپنی صفات کسی اور کو دے جن کے دینے سے اس کی توحید پر بٹہ لگتا ہے۔اس لئے وہ حیات تو کوئی دوسرے کو نہیں دے سکتا ہاں ایک اور حیات ہوتی ہے جو انسان غیر انسان سب کو ملتی ہے ایک شاعر اپنے شاگرد کے شعر میں اچھی اصلاح