خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 261

خطبات محمود ۲۶۱ روپیہ دیتے وقت یا والدین لیتے وقت اپنے اپنے خیال کو ظاہر کر دیتے تو یہ نوبت نہ آتی۔میں اپنے تجربہ کی بناء پر کہہ سکتا ہوں کہ بہت سی لڑائیاں اور جھگڑے اسی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ ابتداء میں صفائی سے کھول کر بات چیت نہیں کرلی جاتی۔ایک ہی بات کا کوئی کچھ مفہوم سمجھتا ہے اور کوئی کچھ۔اور جب یوم الدین یعنی فیصلہ کا وقت آتا ہے تو اصل بات ظاہر ہو جاتی ہے اور جھگڑا پیدا ہو جاتا ہے۔لیکن اگر فریقین قول سدید کریں تو ممکن ہے اس وقت کچھ جھگڑا یا قدرے بد مزگی پیدا ہو جائے لیکن بعد میں ہمیشہ کے لئے سکھ رہے۔اور شادی کا معاملہ کرتے وقت اگر تمام شرائط صاف الفاظ میں اور پوری وضاحت سے طے کرلی جائیں اور کوئی غلط فہمی درمیان میں نہ رہنے دی جائے تو بعد میں بہت کم جھگڑوں کا احتمال ہو سکتا ہے مگر صاف الفاظ کے یہ معنے بھی نہیں کہ دوسرے کو گالی دی جائے۔صاف بات بھی نرمی سے کی جا سکتی ہے اور دراصل اخلاق نام ہی اس پالش کا ہے جو انسان بات کرتے وقت اختیار کرتا ہے۔مسئلہ اخلاق انسانیت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔بعض باتیں انسانیت کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔پھر انسانیت کے بعد یہ درجہ آجاتا ہے کہ عادات و اخلاق کی پالش کی جائے مثلاً اگر کوئی دوسرے شخص کو مارتا ہے تو اگر میں اخلاق کا باریک فلسفہ بیان کروں تو یہی کہوں گا کہ وہ انسان نہیں کیونکہ یہ بات انسانیت سے تعلق رکھتی ہے کہ کسی کو مارا نہ جائے لیکن بات کرتے وقت اگر آداب کو اختیار نہ کیا جائے اور لب ولہجہ ترش ہو تو یہ اخلاق کا سوال ہے۔پس قول سدید کے یہ معنے نہیں کہ جو منہ میں آیا بکتے چلے گئے بلکہ اسے بھی خاص حدود کے اندر رکھنا چاہئے اور انسان کو چاہئے دوسرے کے جذبات کا بھی خیال رکھے اور یہ بھی دیکھے کہ دوسرے پر اس کی بات کا کیا اثر ہو گا اور اگر ان دونوں باتوں کو ملحوظ رکھا جائے اور قول سدید کو اخلاق سے برتا جائے تو کسی جھگڑے کا موجب نہیں ہوگا۔اور کوئی ناراضگی پیدا نہیں ہوگی اس کی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ ہم اپنے کسی دوست کو بلانا چاہتے ہیں لیکن کہتے ہیں اگر آنا ہو تو آؤ، نہیں تو نہ سہی۔اب یہ قول سدید تو ہے لیکن اس سے دوسرے کا دل ضرور دکھے گا۔اگر انسان ہمیشہ بات ایسی کے جو ظاہراً و بالنا ایک ہی مفہوم رکھتی ہو اور ساتھ ہی اسے ایسے رنگ میں پیش کرے کہ دوسرے پر اس کا برا اثر بھی نہ پڑے تو ایسی صلح کی بنیاد قائم ہو سکتی ہے جس سے ہمیشہ آپس میں پیار اور محبت رہے لیکن دل میں کچھ رکھنا اور ظاہر کچھ کرنا ہمیشہ فتنہ کا موجب ہوتا ہے۔ایک شخص اپنی بیوی کو زیور بنا کر دیتا ہے بیوی اسے پہنتی ہے۔