خطبات محمود (جلد 3) — Page 247
خطبات محمود جلد سوم موجود ہوتے ہیں مگر فرشتے اور خدا کے انبیاء بھی ان سے آگاہ نہیں ہوتے۔وہ جوڑے عورت اور مرد میں بھی ہوتے ہیں، مرد اور مرد میں بھی اور عورتوں میں بھی، پیر اور مرید میں بھی اور خادم و آقا میں بھی ہوتے ہیں۔بسا اوقات ایسے لوگ دنیا سے گزر جاتے ہیں جو اپنے جوڑے کو نہیں پاسکتے وہ یہی شکایت کرتے رہتے ہیں کہ دنیا میں وفا نہیں۔ان کا یہ قول غلط ہوتا ہے۔در اصل بات یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنا جو ڑا نہیں پاسکے۔وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے دنیا میں وفا نہیں پائی مگر یہ نہیں کہ سکتے کہ دنیا میں وفا ہے ہی نہیں۔بات یہی ہوتی ہے کہ انہیں جو ڑا لمتا نہیں جو ان کے لئے پیدا کیا گیا تھا۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں چوروں اور ڈاکوؤں میں بھی وفا پائی جاتی ہے ٹھگ بھی بعض اوقات اپنے ساتھی کو بچانے کے لئے اپنی جان تک دے دیتے ہیں۔ایک باغی دوسرے کے لئے پھانسی پر لٹک جاتا ہے۔پس اگر دنیا میں وفا نہیں تو یہ نظارہ ہمیں کیوں نظر آتا ہے۔پس ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ دنیا میں وفا نہیں ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم اپنے جوڑے کی تلاش میں ناکام رہے ہیں اگر جو ڑا مل جاتا تو ہمیں یہ شکایت نہ رہتی۔اسی طرح بہت سے آقا ایسے ہوتے ہیں جو شکایت کرتے ہیں کہ کوئی اچھا نو کر نہیں ملتا حالا نکہ یہ غلط ہوتا ہے۔ان کو اپنا جوڑا نہیں ملا ہوتا اور وہ خادم مل جاتا ہے جسے خدا تعالٰی نے اور مزاج والے آقا کے لئے بنایا تھا اور جس طرح دو الگ الگ بادام آپس میں فٹ نہیں و سکتے اسی طرح یہ بھی آپس میں فٹ نہیں ہو سکتے اور اس واسطے تکلیف اٹھاتے ہیں۔اسی طرح بہت سے خاوند اچھی بیوی نہ ملنے کا گلہ کرتے ہیں حالانکہ دنیا میں اچھی بیوی مل سکتی ہے۔مگر وہ اپنا جوڑا تلاش کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور جس کو بیوی بناتے ہیں وہ دراصل کسی اور کا جوڑا ہوتا ہے۔پس جس طرح ایک انسان کی جوتی دوسرے کے پیر میں نہیں آسکتی اسی طرح جس کو خدا نے جوڑے کے لئے پیدا کیا ہے اس کے سوا دوسرا اس جگہ ٹھیک نہیں آسکتا۔پس دنیا میں با امن زندگی کے لئے صحیح جوڑے کا ملنا ضروری ہے اور جنت اسی کا نام ہے اور اس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام بادَمُ اسْكُنُ انْتَ و زَوُجُكَ الْجَنَّةَ - لہ میں اشارہ ہے۔اس میں خدا تعالٰی نے بتایا ہے کہ گو انسان کے لئے اپنا جوڑا تلاش کرنا ناممکن ہے لیکن میں تیرے جوڑے تلاش کر کر کے تیرے پاس لاؤں گا اور تو اور تیرے جوڑے جنت میں رہیں گے اور با امن زندگی بسر کریں گے۔تو یہ اللہ تعالی کا کام ہے کہ انسان کا جوڑا ا سے ملا دے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ تونسہ شریف کے ہو۔