خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 10

خطبات محمود جلد سوم یہ گویا اس کا اثر تھا۔گو میں نے جب ثنا تو یہ کہا یہ کلمہ ضائع نہ جائے گا ضرور سزا ملے گی۔چنانچہ اس کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ جو کچھ ہوں میں ہوں۔خدا نے ایک پل میں ذلیل کر دیا۔وہی لوگ جو اس کی بات سننے کے لئے ہمہ تن گوش ہوتے تھے پکار اٹھے ہم نہیں سنتے۔ایسے لوگوں کو غلط فہمی ہوئی۔خدا جماعت بنا رہا تھا اور انہیں عزت دینے کے لئے ان کے ذریعے سے کام کرا رہا تھا وہ سمجھے جو کام ہے وہ ہم ہی کر رہے ہیں اس لئے خدا نے ان سے وہ کام چھین لیا۔ان کے تکبر اور رعونت کا یہ حال ہے کہ ایک نے ان میں سے کہا ہم تو جاتے ہیں مگر دس ۱۰ سال کے اندر اندر اس مدرسہ میں عیسائی ہی عیسائی ہوں گے۔ایک نے کہا ہم جاتے ہیں مگر ناک رگڑ کر ہمیں بلوائیں گے ایک نے کہا میں نکلوں گا تو میرے ساتھ ایک جماعت نکلے گی۔مگر خدا بڑا غیور ہے اس نے تھوڑے دنوں میں انہیں ان کی اصلی قیمت دکھا دی۔دیکھو اس وقت جو دنیا کی نظروں میں پہلے کام کرتے نظر آتے تھے وہ سب ہی چلے گئے۔محاسب کے دفتر میں شاید پانچ روپے چار آنے باقی تھے۔تین مہینے کے اخراجات کے بل بھی واجب الادا تھے۔اٹھارہ ۱۸,۰۰۰ ہزار کا قرضہ۔پھر بھی اللہ کام چلاتا ہی رہا اور جماعت کو اللہ تعالی نے یہ ترقی دی کہ پہلے ہفتہ وار ایک آدھ نام نو مبالعین کا چھپتا اب ایک سہ روزہ اخبار سے سب کے نام چھاپنے مشکل نظر آ رہے ہیں۔سنو! اب بھی وہ جھوٹا ہے جو کسے میں نے یہ کیا کسی نے نہیں کیا نہ میں نے کیا نہ تم نے کیا اللہ نے کیا اور وہی آئندہ کرے گا۔آگے ”ہم نے کیا کہنے والوں کو تو خدا نے الگ کر دیا اب خدا کرے ایسے لوگ پیدا نہ ہوں مگر جماعتوں پر ایسے اوقات بھی آتے ہیں۔خدا کرے آئیں تو بہت دیر سے آئیں۔لیکن جب ایسا وقت آئے گا تو نرم گھوڑے ان کے نیچے ہوں گے اور وہ ان پر قابو نہ پاسکیں گے اور اب ان کے نیچے منہ زور گھوڑے ہیں مگر وہ اناڑیوں کے ہاتھ سے چلاتا ہے۔جب تک خدا چاہے گا اس باگ کو پاک ہاتھوں میں رکھے گا اور اس وقت کوئی بالکل اناڑی بھی ہو گا تو اس کے ہاتھوں سے کام چلتا رہے گا لیکن جب یہ سوال ہو گا کہ ہم کرتے ہیں اور ہم اس قابل ہیں ہم اہل الرائے ہیں تو اس وقت خدا چھوڑ دے گا یہ بد قسمتی کا وقت ہو گا۔دیکھو انسان جب تک بچہ ہوتا ہے اللہ تعالی خود اس کے لئے غذا بہم پہنچاتا ہے۔وہ بے حس و حرکت ہوتا ہے تو اس کے اٹھانے والا مہیا کرتا ہے لیکن جب بچہ کہتا ہے میں خود چلوں گا تو ٹھوکریں کھاتا ہے۔پس یاد رکھو کہ جس قدر بھی ترقی ہوئی۔جتنی بھی کامیابی ہوئی یہ سب کام خدا نے کیا خدا کرے گا خدا ہی کرتا ہے جو کچھ کرتا ہے۔جھوٹا ہے وہ جو کہتا ہے میں