خطبات محمود (جلد 3) — Page 215
خطبات محمود - ۲۱۵ جلد مو چھوٹی ہوتی ہیں۔لیکن دلوں کو اس طرح ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہیں کہ پھر وہ جڑ نہیں سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے میں نے یہ بات سنی ہے جو نصیحت کے لئے قصہ بنایا گیا ہے۔کہتے ہیں کسی شخص کا ریچھ سے دوستانہ تھا۔وہ ریچھ کو روزانہ اپنے گھر لے آتا اور خاطر تواضع کرتا۔ایک دن ریچھ کے سامنے اس کی بیوی نے اسے ملامت کرتے ہوئے کہا یہ بھی کوئی دوستی کے قابل ہے جسے تم نے دوست بنایا ہوا ہے۔یہ سن کر ریچھ نے اس شخص سے کہا مثالوں میں حیوان بھی باتیں کر سکتے ہیں) میرے ماتھے پر تلوار مار۔اس نے انکار کیا تو ریچھ نے کہا مار ورنہ میری تجھ سے دوستی نہ رہے گی۔آخر اس نے تلوار ماری جس سے ریچھ زخمی ہو گیا اور چلا گیا۔ایک لمبے عرصے کے بعد ایک دن پھر وہ آیا اور آکر کہنے لگا دیکھو وہ تلوار کا نشان کہیں ہے۔اس نے کہا کہیں نہیں۔وہ کہنے لگا دیکھو تلوار کا نشان کہیں نہیں ملتا لیکن اے عورت! جو بات تو نے کہی تھی آج تک اس کا نشان میرے سینہ پر قائم ہے۔تو بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں لیکن ان کے زخم ہمیشہ قائم رہتے ہیں دوسرے ان کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ایسی باتیں کبھی مرد کی طرف سے ہوتی ہیں اور کبھی عورت کی طرف سے جن کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گھر جہنم بن جاتا ہے۔اس لئے ہماری جماعت کے دوستوں کو خصوصیت سے چاہئے کہ اگر دوسری شادی کی ضرورت پیش آئے تو نفس کو سمجھائیں کہ گزارہ کر سکے اور وہ سختی اٹھا کر بھی گھر کا ایسا انتظام کریں کہ نہ ان کے لئے گھر جہنم بنے اور نہ دوسروں کو اعتراض کا موقع ملے اور اگر کبھی کوئی بات پیدا بھی ہو تو عمدگی کے ساتھ دب جائے یوں لڑائی تو رسول کریم ﷺ کی بیویوں میں بھی ہو جاتی تھی مگر آپ ایسی حکمت اور عمدگی سے ٹلا دیتے تھے کہ کسی کے لئے اعتراض کی گنجائش نہ رہتی تھی۔اس وقت میں حافظ روشن علی صاحب کے دوسرے نکاح کا اعلان کرنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔دوست دعا کریں کہ خدا تعالی ان کی شادی کو بابرکت بنائے۔ان کے ہاں اولاد تو ہے مگر نرینہ اولاد نہیں اس لئے دعا کریں کہ خدا تعالٰی نرینہ اولاد دے اور دونوں بیویوں سے دے۔الفضل ۶ - اکتوبر ۱۹۲۵ء صفحه ۷۹۶) له الفضل ۱۰ ستمبر ۱۹۲۵ء صفحہ ۱ ه البقرة : ۲۸۷ ترمذی ابواب النكاح باب ما جاء فى التسوية بين الضرائر