خطبات محمود (جلد 3) — Page 203
خطبات محمود ۲۰۳ جلد سوم پوری ہوتی نظر آتی تھی اس لئے میں نے اس جگہ کے متعلق اپنی رضا ظاہر کر دی جس جگہ اب نکاح کا فیصلہ کیا گیا ہے۔خدا تعالی کی مشیت ہوتی ہے اور کوئی انسان اس کی مرضی کی تہہ کو نہیں پہنچ سکتا اگر اس کی حکمت اور اس کی مرضی اس امر کا فیصلہ نہ کرتی کہ وہ امتہ الھی کو مجھ سے جدا کر لیتی تو میں سمجھتا ہوں کو چوتھی شادی کی بھی ایک مسلمان کو اجازت ہے مگر میں اپنے حالات کے لحاظ سے اس کے لئے تیار نہ ہوتا۔میں نہیں سمجھتا آئندہ میرے قلب کا کیا حال ہو گا لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ اس وقت تک کوئی ایسی حالت مجھ پر نہیں گزری کہ میں نے اس نقصان کو بھلایا ہو اور آج تک میں نے کوئی نماز ایسی نہیں پڑھی جس میں امتہ الحی مرحومہ کے لئے دعا نہیں کی۔میں جب رسول کریم ﷺ کا خیال کرتا ہوں تو مجھے آپ کے اخلاق نہایت ہی پیارے لگتے ہیں کہ آپ کو اتنے بڑے بڑے کام سرانجام دیتے ہوئے کبھی خدیجہ نہ بھولیں۔حدیث میں آتا ہے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات پر نو دس سال گزر جاتے ہیں۔یہ معمولی زمانہ نہیں۔لوگ تھوڑے تھوڑے عرصہ بعد اپنے بڑے بڑے عزیزوں کو بھول جاتے ہیں مگر اتنے سال گزر جاتے ہیں صحابہ" لکھتے ہیں۔لوگ رسول کریم ﷺ کے پاس تحفہ لاتے ہیں جسے دیکھ کر آپ کو آنسو آجاتے ہیں اور پر نم آنکھوں سے فرماتے ہیں یہ تحفہ فلاں عورت کے پاس لے جاؤ کیونکہ وہ میری خدیجہ کی سہیلی تھی۔فلاں عورت کے پاس لے جاؤ کہ میری خدیجہ سے بہت محبت کرتی تھی۔ایک دفعہ ایک عورت آپ سے ملنے کے لئے آئی آپ اسے دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنی چادر بچھا کر اسے بٹھایا۔صحابہ نے پوچھا یہ کون ہے۔فرمایا خدیجہ کو اس سے محبت تھی۔۔ایک نادان سمجھتا ہے یہ شرک ہے اور دل کی کمزوری کا نتیجہ ہے حالانکہ سالہا سال تک ایک مرنے والے کو جس کی یاد کوئی چیز نہ دلاتی ہو یا د رکھنا وفاداری ہے شرک نہیں۔عام طور پر لوگوں کو منہ دیکھنے کی محبت ہوتی ہے۔جب کوئی نظروں سے غائب ہو جائے اسے بھول جاتے ہیں مگر میں نے بارہا غور کیا ہے۔اور ہر بار اس خواہش کو اپنے دل میں پایا ہے کہ اگر میں اپنے مرنے پر کوئی ایسے آدمی چھوڑ جاؤں جن کے دل میں اسی طرح میری محبت اور میرے لئے دعا سے پر ہوں جس طرح میرا دل امتہ ائی کے لئے پر ہے تو میں سمجھوں گا کہ میں ایک کام کر کے مرا ہوں۔کون ہیں جو مرنے والے کو یاد رکھتے ہیں۔جب وہ اپنی خواہشات کو پورا ہوتے دیکھتے