خطبات محمود (جلد 3) — Page 202
خطبات محمود ۲۰۲ جلد سوم معذور سمجھا جاسکتا ہے اور ایک شخص جو شہوانی طاقت کو دبا نہیں سکتا اس کے لئے شادی ایک فلسفیانہ نکتہ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی لیکن جس کی یہ حالت نہ ہو وہ جانتا ہے کہ میں ایک خاص ذمہ داری بعض حالات کے ماتحت اٹھا رہا ہوں۔یہی حالت اس وقت میری ہے۔پس میں جس تقریب کے لئے آج کھڑا ہوا ہوں وہ میرے لئے نہایت ہی اہم تقریب ہے۔آج سے چند ماہ پہلے میں یہ وہم بھی نہیں کرتا تھا کہ ایک اور شادی کروں گا۔بلکہ ایک بات یدا بھی ہوئی تو میں نے ایک دوست کو بتایا کہ میں حالات کے لحاظ سے بالکل معذور ہوں لیکن میں نہیں سمجھ سکتا کہ آئندہ زمانہ میں خدا تعالٰی نے کیا مقدر کیا ہوا ہے۔اگر میری ذمہ داریاں جو جماعت کا امام ہونے کے لحاظ سے مجھ پر عائد ہوتی ہیں ان کے پورا کرنے کا مجھے خیال نہ ہوتا اور جماعت کی اغراض اور مقاصد اس بات کے لئے محرک نہ ہوتے تو آج اس تقریب کے لئے میں منبر پر کھڑا ہونے کی کبھی جرات نہ کرتا کیونکہ میں بیاہ شادیوں سے دل برداشتہ ہو چکا ہوں۔اب میرے لئے اس فعل میں کوئی خوشی نہیں اور مجھے اس میں کوئی جسمانی راحت نظر نہیں آتی سوائے اس کے کہ جو خدا تعالٰی پیدا کر دے۔کوئی لمبا عرصہ نہیں گزرا۔کچھ دن ہوئے میں نے اسی مسجد میں ایک لیکچر دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ میں نہیں سمجھ سکتا میں کوئی اور شادی کرنے کے قابل ہوں۔مجھ میں اب اتنی ہمت نہیں ہے کہ ایک نوجوان لڑکی کولوں اور اسے تعلیم دے کر اس قابل بنا سکوں کہ سلسلہ کا کام اس طریق سے جو میرے مد نظر ہے کر سکے لیکن بعد کے میرے غور اور بعض دوستوں نے جو مشورے دیئے اور بعض ایسے دوست جن سے میں نے مشورہ لیا ان سے استخارے کرائے اور خود بھی کئے اس سے میری توجہ اس طرف مائل ہوئی کہ عورتوں میں اعلیٰ تعلیم کو رواج دینے اور ان میں سلسلہ کی روح پیدا کرنے کے لئے کسی ایسی لڑکی سے شادی کروں جو تعلیم یافتہ ہو اور جسے میں تربیت دے کر تعلیمی کام کرنے کے قابل بنا سکوں۔اس فیصلہ کے بعد بعض کی تحریک پر مختلف جگہیں پیش ہو ئیں جن میں سے کئی ایسی تھیں جن کی سفارش ان کی شکل وصورت کرتی تھی لیکن چونکہ یہ بات مجھے مد نظر نہ تھی اس لئے میں نے انکار کر دیا۔پھر بعض ایسی تھیں جو تعلیم دنیاوی زیادہ رکھتی تھیں اور یہی کشش تھی جو مجھے کھینچے کا باعث ہو سکتی تھی مگر ان جگہوں کے متعلق بھی میں نے انکار کر دیا کیونکہ میں نے سمجھا یہ تعلیم ایسی نہیں جس کے پیچھے میں پڑوں۔آخر قطع نظر ان امور کے محض اس وجہ سے کہ اس جگہ دینی تعلیم کا سوال تھا اور وہ بات جس کی سلسلہ کو ضرورت تھی وہ اس جگہ