خطبات محمود (جلد 3) — Page 191
خطبات محمود 191 تکلیف نہ دیں اور لڑکے والے لڑکی والوں کو تکلیف نہ دیں۔بلکہ وہ دونوں ایسے رہیں کہ باہمی محبت میں ترقی ہو۔جس عزیز کا آج نکاح ہے وہ اس گھر میں سے ہے جو ہمیشہ نصائح سنتے رہتے ہیں اس لئے امید ہے کہ وہ ان نصائح پر عمل کرنے کی کوشش کرے گا۔عزیزم رشید احمد کا نکاح عزیز میاں بشیر احمد صاحب کی لڑکی سے قرار پایا ہے جس کے لحاظ سے دونوں ایک ہی سلسلے میں منسلک ہو جاتے ہیں۔چونکہ عزیزم رشید احمد ہمیشہ ہم میں ہی رہے ہیں اور دینی تکمیل کی اور احمدی ہیں۔اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ وہ نکاح کے فرائض کو پورا کریں گے۔عزیزم میاں بشیر احمد صاحب نے میرے ہی سپرد یہ معاملہ کیا ہے۔انہوں نے پہلے سے میری رائے پر یہ کام چھوڑا ہوا تھا اور میں نے ہی یہ رشتہ پسند کیا ہے اس کے مطابق ان کی طرف سے اب بھی میں ہی بولوں گا اور قبول کروں گا۔ہمارے مد نظر صرف ایک ہی چیز ہے اور وہ یہ کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے اور ہمارے داماد اپنی زندگیوں کو محض خدا کے لئے وقف کریں۔لوگ دنیا میں مختلف چیزیں مد نظر رکھتے ہیں مگر ایک مسلم کے لئے صرف بذات الدین ہی ہے اس لئے ہم امید کرتے ہیں کہ عزیز رشید احمد ہماری حسن ظنی کو پورا کریں گے۔میں جانتا ہوں کہ اس وقت ایسی رو چلی ہوئی ہے کہ ہر شخص دنیوی ترقی چاہتا ہے میں اس کا مخالف نہیں ہوں مگر ہم کہتے ہیں دنیوی ترقی بھی دین کے ماتحت ہو اور اس میں بھی ہماری غرض دین ہی ہو۔عزیزہ امتہ السلام میرے بھائی کی لڑکی ہے مگر میں اپنی لڑکی کے متعلق بھی یہی پسند کروں گا کہ اگر دنیا میں کوئی دیندار نہ رہے اور ایک چوہڑا مسلمان ہو کر خدا کا محبوب ہو تو میں اس کو سو میں سے سو درجے پسند کروں گا اور مطلقاً پرواہ نہ کروں گا کہ میں بڑے خاندان سے ہوں اور علم والے خاندان سے تعلق رکھتا ہوں اور وہ ادنیٰ قوم سے ہے۔میں صرف خدا کی یاد کی خوبی کو سب سے بڑی خوبی جانوں گا۔بعض لوگ قوموں کی تفریق مٹانے کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔مثلاً یہ کہ راجپوتوں میں سے چھت وغیرہ کا لحاظ اٹھا دینا چاہئے۔لیکن جب ان کی حالت پر نظر کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود ادنیٰ قوم سے ہوتے ہیں اور قومیت کو مٹانے کی کوشش سے ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ان کی لڑکیاں بڑے بڑے گھرانوں میں جائیں۔میرے پاس کئی ایسے لوگوں نے آکر کہا کہ اس تفریق کو مٹا دیا جائے۔میں نے کہا جب تک تم خود صحیح کوشش نہ کرو گے اور اپنی لڑکیاں محض دینداری کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے سے کم درجہ کے لوگوں کو نہ دو گے تب تک تم