خطبات محمود (جلد 3) — Page 151
خطبات محمود 101 جلد سوم ہے۔اگر رشتہ داریوں کو جدا کر دیا جائے تو کوئی شخص دنیا میں رہنا پسند نہیں کرے گا اگر کسی شخص کو کہا جائے کہ ہم تمہیں سب کچھ دیں گے اور تمہیں ہر قسم کی راحت پہنچائیں گے اور تمہاری ہر ایک خواہش پوری کریں گے اگر تو اس بات کو منظور کرے کہ تیری تمام رشتہ داریاں منقطع کر دی جائیں تو وہ شخص ان راحتوں اور آراموں کو اس قربانی کے مقابلہ میں لعنت سمجھے گا۔تو نکاح بہت اہم بات ہے مگر لوگ بالعموم اس کی اہمیت پر غور نہیں کرتے اور محدود اغراض اس کی سمجھتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ لوگ کہا کرتے ہیں کہ نکاح اس لئے کرتے ہیں کہ گھر میں کوئی روٹی پکانے والا نہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ اغراض نکاح میں سے کوئی غرض نہیں غرض تو ہے مگر بہت ادنی ہے۔اس لئے جو شخص اس کو بڑی غرض بنا تا ہے وہ ان بڑی اغراض کے حصول سے محروم رہ جاتا ہے جو نکاح کی ہیں۔کیونکہ روٹی تو انسان ملازم سے پکوا سکتا ہے کلب میں کھا سکتا ہے۔مگر نکاح کی اور اغراض ہیں جو اسی سے پوری ہو سکتی ہیں۔لوگوں کے اس خیال سے ظاہر ہے کہ وہ اتنے بڑے اہم معاملہ کو ادنی درجہ کا خیال کرتے ہیں اور اس لئے وہ ان فوائد کو بھی حاصل نہیں کر سکتے جو نکاح کے اندر مخفی ہیں کیونکہ قاعدہ ہے کہ جو شخص کسی چیز کی اہمیت سے ناواقف ہے وہ اس کے فوائد کو حاصل بھی نہیں کر سکتا۔مثلاً یہی چائے جو ہندوستان میں پیدا ہوتی ہے لوگ اس سے ناواقف تھے۔انہوں نے اس کی طرف توجہ نہ کی اس کا پودا پیدا ہوتا تھا اور جنگل میں ہی سوکھ جاتا تھا۔انگریزوں نے چینیوں کے ساتھ تجارت میں اس کے فوائد اور اس کی اہمیت کو سمجھا اور فورا ان علاقہ جات کو ستے داموں خرید لیا جہاں چائے پیدا ہوتی ہے۔اب تمام ہندوستان میں چائے کے باغات انگریزوں کے ہیں۔انہوں نے زبردستی نہیں لئے قیمت سے لئے ہیں۔ہاں اپنے علم سے فائدہ اٹھایا ہے۔اب اسی چائے سے میں کروڑ روپیہ سالانہ انگریز ہندوستان میں کماتے ہیں۔انگریز ہندوستان سے روپیہ لیتے ہیں مگر حکومت کے ذریعہ نہیں۔ایسے ہی ذرائع سے۔پھر ہندوستان میں بانس ہو تا تھا ہندوستانی صرف بانس کی غرض یہ سمجھتے تھے کہ کاٹا اور ڈنڈا بنالیا اس لئے بانس کے جنگلات ان کے لئے بے سود تھے۔مگر انگریزوں نے اس کے فوائد کو سمجھا اور اس کے لاکھوں کروڑوں روپیہ کے کاغذ بنا ڈالے۔اسی طرح لوگ نکاح کی اہمیت سے بھی بے خبر ہیں اور اس لئے اس کے فوائد سے بھی بے خبر ہیں۔میں جن دنوں بمبئی گیا تھا وہاں ایک واقعہ پیش