خطبات محمود (جلد 3) — Page 143
خطبات محمود ۱۴۳ ۴۳ جلد موسم ولی لڑکی کے مفاد کی حفاظت کرے فرموده ۹ - فروری ۱۹۲۲ء) له خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد حضرت فضل عمر خلیفہ المسیح الثانی نے فرمایا : بوجہ اس کے کہ میرے گلے اور سر میں درد ہے اس لئے زیادہ مضمون بیان نہیں کر سکتا لیکن جو ایک عیب پایا جاتا ہے اور جس کو شریعت نا پسند کرتی ہے جماعت کو اس کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ہماری جماعت خدا کی قائم کردہ ہے اور اس کا جو مقام احترام ہے دیکھو اس کے لئے خدا تعالی دنیا میں کیا کیا سامان کرتا ہے اور اس کو عزت دیتا ہے۔یہ کیوں کرتا ہے کیا اس پر ہمارا اقتدار ہے۔نہیں بلکہ وہ پیشگی کے طور پر ہمیں اپنے انعامات دیتا ہے۔جس کے معنے ہیں کہ وہ ہم سے کچھ چاہتا بھی ہے کیونکہ جو پیشگیاں لیا کرتے ہیں شرافت کا تقاضا ہے کہ وہ دوسروں کی نسبت زیادہ فرض شناس ہوں مگر ہماری جماعت جو خدا کی قائم کردہ ہے اس میں بھی ملک کی رسم کے مطابق ایک قابل افسوس بات پائی جاتی ہے اور وہ مرض یہ ہے کہ اس ملک کے لوگ نکاحوں کے بارے میں ذاتی فوائد کو مقدم رکھتے ہیں۔شریعت نے لڑکی کی ولایت اس کے باپ یا بھائی یا کسی اور قریب کے رشتہ دار کو دی ہے اس لئے کہ وہ لڑکی کے فوائد کو مد نظر رکھیں گے۔کیونکہ یہ سمجھا گیا ہے کہ لڑکی نادان ہے اپنے فوائد کو نہیں سمجھ سکتی۔باپ یا بھائی اس کے گارڈین ہیں وکیل ہیں اور اس کے حقوق کی حفاظت کریں گے۔لیکن ہمارے ملک میں اس وکالت کا ناجائز استعمال کیا جاتا ہے۔یہ نہیں دیکھا جاتا کہ لڑکی کہاں سکھ پائے گی بلکہ عموماً لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ ان کو روپیہ کہاں سے ملتا ہے وہ اپنے حق کو ظالمانہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔