خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 141

خطبات محمود جلد سوم ضرورت ہوتی ہے۔پھر ایسا کیوں کیا جاتا ہے اس کی یہی وجہ ہے کہ طبعاً انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ خوشی کے موقع کو وہ بھی دیکھ سکے۔خوشی کا اوجھل ہونا انسان کو پسند نہیں۔لیکن بعض اوقات ایسے ہوتے ہیں کہ انسان او جھل ہونے کو گوارا بھی کر لیتا ہے۔ہمارے ہاں بیسیوں نکاح ہر سال اس قسم کے ہوتے ہیں کہ لڑکے اور لڑکی والے دونوں میں سے ایک یا دونوں موجود نہیں ہوتے۔اس سے یہ نہیں سمجھا جاسکتا کہ ان میں احساسات نہیں ہوتے ان میں خوشی اور رنج کے احساسات ہوتے ہیں۔پھر ایک بات ہے کہ جس خوشی کے موقع کو دنیا آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتی یہ لوگ اس میں موجود نہیں ہوتے۔میں نے کہا تھا کہ بعض مواقع ہوتے ہیں جن میں اوجھل ہونے کو گوارا کر لیا جاتا ہے جب انسان غیر ملک میں ہو تو انسان اپنے بال بچوں کو وطن میں بھیج دیتا ہے۔وہ خوشی کو او جھل کرتا ہے اس لئے کہ شادی اس کے وطن میں ہو جائے۔لوگ کہتے ہیں کہ پردیس میں موت نہ ہو۔کیا پردیس والے دفن نہیں کرتے یا وطن میں دفن ہو کر جنت مل جاتی ہے ؟ وطن میں بھی موت آئے تو دو تین نسلوں کے بعد کوئی جانتا بھی نہیں۔مگر وطن کی خاطر خوشی کا آنکھوں سے اوجھل ہونا پسند کر لیا جاتا ہے۔اسی مضمون کو قرآن کریم کی ان آیات میں بیان کیا گیا ہے۔يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَرْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءَ ، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ ، سے ایک آدمی کی نسل کو خدا تعالی ایسا بڑھاتا ہے کہ اس سے ایک دنیا آباد ہو جاتی ہے وہ دنیا کے باپ ہوتے ہیں اور ان کا وطن تمام دنیا کا وطن ہوتا ہے۔وہ اتم یا جڑیا اصل کے طور پر ہوتے ہیں۔حتی کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے تو ان کا حوالہ دے کر کرتا ہے۔اس لئے جو نکاح یہاں ہوتے ہیں ان میں خاص بات ہوتی ہے اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی برکات کا ثبوت ہے۔آپ بھی آدم ہیں اور آپ کے ساتھ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ آپ کی نسل کو بڑھائے گا اور زمین کے کناروں تک پھیلا دے گا۔اس لئے ایک احمدی خواہ کہیں ہو اس کا وطن قادیان ہے۔یہ قلوب پر تصرف ہے اور حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا ثبوت کہ خدا نے آپ کو آدم بنایا اور دنیا کے قلوب پر تصرف بخشا اور دنیا نے آپ کے وطن کو اپنا وطن سمجھ لیا۔لوگ جس خوشی کو او جھل نہیں ہونے دیتے اس کو خوشی سے اپنے وطن کے لئے قربان کرتے ہیں۔یہ عظیم الشان کشش بتلاتی ہے کہ حضرت صاحب کا دعوی سچا ہے اور آپ واقعی آدم ثانی ہیں۔کیونکہ۔