خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 126

خطبات محمود ۱۲۶ ۳۷ جلد سوم صدق و سداد کی اہمیت فرموده ۳۰ جنوری ۱۹۲۲ء) ۳۔جنوری ۱۹۲۲ء ملک احمد حسین ولد ملک غلام حسین صاحب ساکن قادیان کا نکاح مسمات نیاز بیگم بنت بابو عبد الرحیم صاحب احمدی ساکن خورم گجر تحصیل راولپنڈی سے مہر مبلغ سات سو روپیہ پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے پڑھا۔لے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔دنیا میں کئی قسم کی نیکیاں ہوتی ہیں جن میں سے بعض کا نتیجہ بالواسطہ ملتا ہے جیسے نماز ہے۔قانون نیچر میں داخل نہیں کہ جو نماز پڑھے گا اس کو ظاہر میں ضرور انعام ملے گا۔مگر بالواسطہ اس کا انعام مقرر ہے اگر نماز پوری شرائط کے ساتھ ادا کی جائے تو خدا تعالیٰ کسی رنگ میں اس کا بدلہ دیتا ہے۔کبھی رزاقی کی صفت کے ماتحت کبھی مالکی کی صفت کے ماتحت، کبھی کسی اور صفت کے ماتحت مگریہ لازمی نتیجہ نہیں جو قانون قدرت کے طور پر بر آمد ہو بلکہ خدا اپنی قدرت کے ماتحت کوئی انعام عطا فرماتا ہے یا روزہ ہے اس کا نتیجہ کسی معین صورت میں نہیں نکلتا۔ہاں اگر خدا تعالی کے ہاں روزہ مقبول ہو تو اس کا کسی اور رنگ میں بدلہ دے گا مگر بعض امور ایسے ہیں کہ ان کا لازمی نتیجہ طبعی صورت میں ایک ہی ہوتا ہے۔مثلاً جو گندم بوئے گا اس کا نتیجہ گندم ہی ہو گا۔خدا کی حکمت یہ نہیں کرے گی کہ گندم ہوئے تو چنے پیدا ہو جا ئیں۔اسی رنگ میں بعض اخلاقی نیکیاں ہیں کہ ان کا معین صورت میں ایک بدلہ مل جائے گا۔مثلاً سچ بولنا۔چوری نہ کرنا ان کے نتائج معین بھی ہیں۔جو سچ بولتا ہے لوگ اس پر اعتماد کرتے ہیں۔جو چوری