خطبات محمود (جلد 3) — Page 125
خطبات محمود ۱۲۵ جلد سوم کام لیا۔اور اسی طرح اجتماع کی جو لذت ہے اس سے بھی ایک غرض ہوتی ہے کہ میرا جوڑ کس سے ہے وہ محسوس کرتا ہے کہ میرا تعلق خدا سے ہونا چاہئے اگر میں اس میں مل جاؤں تو جس طرح مرد عورت کے جوڑے سے نسل انسانی کو بقاء ملتی ہے اسی طرح جب بندہ اور خدا ملتے ہیں تو بندے کو ابدی زندگی اور لافانی اور غیر منقطع سلسلہ حیات دیا جاتا ہے۔اس سلسلہ کی طرف توجہ دلانے کے لئے نکاح کو رکھا ہے۔اس میں اس غرض کو مد نظر رکھنا چاہئے عام طور پر جس طرح ملنے میں مزہ مد نظر رہ جاتا ہے۔اسی طرح اجتماع کی اصل غرض جو خدا سے جوڑ تھا انسان اس کو بھول جاتا ہے اور محض اجتماع ہی باقی رہ جاتا ہے۔الفضل ۲۳۔فروری ۱۹۲۲ء صفحہ ۷۶) لے فریقین کا علم نہیں ہو سکا۔