خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 665 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 665

خطبات محمود ۶۶۵ ۱۴۷ چلند سوم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عظمت فرموده ۲۵ جنوری ۱۹۵۴ء) مورخہ ۲۵ جنوری ۱۹۵۴ء کو بعد نماز عصر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مکرم چوہدری کرم الی صاحب ظفر مبلغ سپین کا نکاح مسماۃ رقیہ ٹیم بشری بنت مکرم ماسٹر محمد اسحق صاحب ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول فورٹ عباس ریاست بہاولپور کے ساتھ بعوض تین ہزار روپیہ مہر پڑھا۔خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : نکاح تو ہوتے ہی رہتے ہیں مگر ان نکاحوں کے ساتھ بہت کچھ اونچ نچ بھی ہوتی ہے۔بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ لڑکے اور لڑکی والے دونوں تقویٰ کے نام پر وجاہت پسندی میں مشغول ہوتے ہیں۔یعنی نام اس کا تقویٰ رکھ دیتے ہیں لیکن حقیقتاً وہ تقویٰ کے ساتھ دور کا تعلق رکھنے والی بات بھی نہیں ہوتی۔مثلاً ایک مالدار لڑکی ہوتی ہے اور کوئی شخص اس سے شادی کرنا چاہتا ہے اب اس کے دل میں تو یہ ہوتا ہے کہ اس لڑکی سے شادی کر لینے کے نتیجہ میں مال و دولت اس کے ہاتھ آجائیں گے لیکن وہ خود اور اس کے متعلقین جب لوگوں سے بات کریں گے تو اس رنگ میں کریں گے کہ یہ لڑکی بڑی دیندار ہے اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ یہ رشتہ حاصل کیا جائے۔گویا دیندار مالدار لڑکی ہی ہوتی ہے کوئی غریب لڑکی دیندار نہیں ہو سکتی۔یہی لڑکی والوں کا حال ہوتا ہے وہ خیال کرتے ہیں کہ اگر ان کی لڑکی کا نکاح فلاں لڑکے سے ہو جائے تو وہ آسودہ حال ہو جائیں گے لیکن گردو پیش کے حالات سے ڈرتے ہوئے اور اس چیز سے خوف کھاتے ہوئے کہ اگر وہ دنیا داری کو ظاہر کریں گئے تو لوگ کیا کہیں گے وہ رنگا رنگ کے پر دے