خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 660 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 660

خطبات محمود ۶۶۰ جلد سوم ہے کہ فوج میں سپاہیوں کو شراب نوشی کی رغبت دلائی جاتی ہے اور جنگ کے موقع پر شراب کا راشن بڑھا دیا جاتا ہے تاکہ نشہ کے نتیجہ میں وہ عواقب سے لا پرواہ ہو جائیں اور میدان جنگ میں اس بات کا خیال نہ کریں کہ ان کی موت کے بعد ان کے بیوی بچوں پر کیا گزرے گی۔لیکن یہ ظاہر ہے کہ اسلام تو ایک طبعی طریقہ اختیار کرتا ہے اور در حقیقت بتائی اور بیوگان کی حفاظت اور پرورش کا مناسب انتظام کر کے قوم کے افراد کو مطمئن کر دیتا ہے کہ وہ مذہب اور ملک کی خاطر مرنے سے نہ ڈریں۔مگر یورپین لوگوں نے یہ ذریعہ اختیار کیا ہے کہ شراب کثرت سے خریدی جائے اور پلائی جائے اس طرح یہ لوگ مصنوعی طور پر اپنے سپاہیوں کی عقل پر پردہ ڈال دیتے ہیں تاکہ وہ ملک کی خاطر لڑتے وقت موت سے بے خوف ہو جائیں۔(المصلح کراچی ۷ او سمبر ۱۹۵۳ء صفحه ۴) لے یکم نومبر ۱۹۵۳ء کو صبح ساڑھے نو بجے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے قصر خلافت میں محترم عارف نعیم صاحب ( آف سائپرس متعلم جامعہ المبشرين ربوہ کا نکاح محترمہ خدیجہ بیگم صاحبہ بنت جناب محمد ابراہیم صاحب مرحوم سے مبلغ ایک ہزار روپیہ مہر پر یکم نومبر ۵۳ء کو صبح ساڑھے نو بجے حضرت مصلح موعود نے قصر خلافت میں پڑھا۔خطبہ نکاح قلم بند نہ ہو سکا اس کا خلاصہ اپنے الفاظ میں محترم مولانا نذیر احمد علی صاحب مبلغ مغربی افریقہ کی طرف سے شائع ہوا تھا۔جو درج کر دیا گیا ہے۔خطبہ میں حضور نے خواجہ گل محمد صاحب سکنہ چکوال جو لڑکی کے پرورش کنندہ ہیں کے نیک نمونہ کی تعریف فرمائی جو انہوں نے یتیم بچی کی پرورش کے ضمن میں پیش کیا۔(المصلح کراچی ۱۷- دسمبر ۱۹۵۳ء صفحه