خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 620 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 620

خطبات محمود ۶۲۰ ١٣٣١ جلد سوم شادی بیاہ کے موقع پر خشیت و خضوع سے دعاؤں کی تلقین (فرموده ۲۷ ستمبر ۱۹۴۶ء بعد نماز مغرب بمقام ۸ یا رک روڈ دہلی) خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے فرمایا : مجھے اس وقت سر درد کی شکایت ہے اس لئے میں زیادہ بول نہیں سکتا میں مختصر طور پر خطبہ پڑھوں گا۔دنیا کا سارا امن وامان شادی بیاہ پر منحصر ہے۔بظاہر یہ اعلان معمولی معلوم ہوتا ہے لیکن در حقیقت ساری دنیا کی سیاست، حکومت اور اقتصادی حالت نکاح پر منحصر ہے۔اور جتنی نیک تحریکیں یا جتنے فتنے پیدا ہوتے ہیں ان سب کی بنیاد نکاح پر ہوتی ہے۔بعض لوگوں نے ان فتنوں کو دیکھ کر یہ عقیدہ رائج کیا ہے کہ شادیاں نہیں کرنی چاہئیں کیونکہ ان کی وجہ سے ہی سب فسادات پھیلتے ہیں۔چنانچہ اسی وجہ سے منک (Monk) اور نن (Non) کا طریق رائج ہوا اور لوگوں نے رہبانیت کے طریق کو اختیار کیا کہ نہ اولادیں پیدا ہوں اور نہ یہ فسادات پھیلیں۔گویا اس طریق سے انہوں نے فتنہ کا سد باب کرنا چاہا مگر انہوں نے یہ نہ سوچا کہ جس چیز کی خواہش فطرت کے اندر رکھ دی گئی ہے اسے چھوڑا نہیں جا سکتا اور اس سے رکنا دنیا کے لئے نا ممکن ہے۔باوجود اس کے عیسائی دنیا میں ہزاروں ہزار منگ اور ننز ہیں لیکن دنیا کی آبادی میں کمی نہیں ہوئی اور ان فتنوں اور فسادوں کے دروازے بند نہیں ہوئے۔پس یہ سمجھنا کہ رہبانیت دنیا کو امن دے سکتی ہے یہ بالکل غلط ہے اور نہ ہی دنیا اسے اختیار کر سکتی ہے۔اب سوال ہوتا ہے کہ اگر یہ فطرتی خواہش ہے اور انسان شادی کرنے پر مجبور ہے اور پھر آگے شادی سے نسل پیدا ہوتی ہے اور نسلوں کے بڑھنے سے فسادات پھیلتے ہیں تو پھر کیا کیا جائے۔