خطبات محمود (جلد 3) — Page 565
خطبات ما ۵۶۵ ۱۲۵ جلد سوم ہر انسان دیکھے کہ اس نے کل کے لئے کیا بھیجا ہے (فرموده ۱۳- اکتوبر ۱۹۴۲ء) له خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے فرمایا :- انسانی زندگی سب کی سب وَلَتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدِ لے کے ارد گرد چکر لگا رہی ہے۔لیکن انسان کی عادت ہے کہ جہاں وہ اپنی امنگوں اور اپنے ارادوں کو مستقبل سے وابستہ کر لیتا ہے وہاں وہ اپنے اعمال اور اپنے افعال کو حاضر پر محصور کر دیتا ہے۔حالانکہ اگر ایک گاڑی کے دو گھوڑے ہوں اور دونوں میں سے ایک کو پیچھے کی طرف باندھ دیا جائے اور دوسرے کو آگے کی طرف باندھ دیا جائے تو یقینی بات ہے کہ وہ گاڑی یا ٹوٹ جائے گی یا گر جائے گی۔اس صورت میں گاڑی چل سکتی ہے، جب دونوں گھوڑے ایک طرف ہوں اسے تم مشرق کی طرف لے جاؤ یا مغرب کی طرف لے جاؤ ، شمال کی طرف لے جاؤ یا جنوب کی طرف لے جاؤ، اس کا سوال نہیں، بہر حال جدھر بھی گھوڑے لگا دو ادھر گاڑی چلی جائے گی۔چاہے وہ غلط طرف ہی کیوں نہ جائے۔لیکن اگر ایک گھوڑے کو ایک طرف باندھ دیا جائے اور دوسرے گھوڑے کو دوسری طرف باندھ دیا جائے تو پھر وہ گاڑی کہیں بھی نہیں جائے گی بلکہ ٹوٹ جائے گی۔انسانی منزل کے بھی دو گھوڑے ہوتے ہیں اور دونوں گھوڑے انسانی ترقی کے لئے یک جا باندھے جاتے ہیں ان میں سے ایک انسان کے عمل ہوتے ہیں اور ایک اس کی امنگیں اور خواہشیں ہوتی ہیں۔عمل امنگ کو بڑھاتا ہے اور امنگ عمل میں زیادتی کرتی ہے اور اس طرح ہر قدم جو ایک گھوڑے کا اٹھتا ہے وہ دوسرے کے آگے بڑھنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔آخر امنگ کیا چیز