خطبات محمود (جلد 3) — Page 553
خطبات محمود بنادی۔۵۵۳ جلد سوم سیٹھ صاحب کے دوسرے لڑکے کی شادی خان صاحب ذوالفقار علی خاں صاحب کی لڑکی سے ہوئی ہے۔خاں صاحب بھی بہت مخلص آدمی ہیں اور گو وہ بہت پرانے نہیں مگر پیچھے آکر بھی انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اپنے تعلقات مضبوط کئے اور بڑھائے تو ان کے لڑکوں کے رشتے بھی اللہ تعالیٰ نے مخلص گھرانوں میں کرا دیئے۔لڑکیوں کی شادیاں بھی وہ چاہتے تھے کہ پنجاب میں ہی ہوں غرض امتہ الحفیظ کا نکاح تو خلیل احمد صاحب سے ہو گیا جو مجاہدین میں سے ہیں اور سلسلہ کے ان بچوں میں سے ہیں جن پر امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنی قربانیوں سے سلسلہ کی ترقی کا باعث ہوں گے اور چھوٹی لڑکی امتہ الٹی کے نکاح کا اعلان میں اس وقت کر رہا ہوں جو خان صاحب ڈاکٹر محمد عبد اللہ صاحب کے ایک قریبی عزیز اور شاید بھانجے محمد یونس صاحب کے ساتھ قرار پایا ہے اس رشتہ میں بھی سیٹھ صاحب نے اخلاص مد نظر رکھا ہے۔تمدن کے اختلاف کی وجہ سے میں ان کو لکھتا تھا کہ حیدر آباد میں ہی رشتہ کریں مگر ان کی خواہش تھی کہ قادیان یا پنجاب میں ہی رشتہ ہو تا قادیان آنے کے لئے ایک اور تحریک ان کے لئے پیدا ہو جائے۔محمد یونس صاحب ضلع کرنال کے رہنے والے ہیں جو دہلی کے ساتھ لگتا ہے ہے مگر حیدر آباد کی نسبت قادیان سے بہت نزدیک ہے۔سیٹھ صاحب کا خاندان ایک مخلص خاندان ہے ان کی مستورات کے ہمارے خاندان کی مستورات، ان کی لڑکیوں کے میری لڑکیوں سے اور ان کے اور ان کے لڑکوں کے میرے ساتھ ایسے مخلصانہ تعلقات ہیں کہ گویا خانہ واحد والا معاملہ ہے۔ہم ان سے اور وہ ہم سے بے تکلف ہیں اور ایک دوسرے کی شادی و غمی کو اسی طرح محسوس کرتے ہیں جیسے اپنے خاندان کی شادی و غمی کو۔ان کی لڑکی امتہ الحی کا نکاح ایک ہزار روپیه مهر پر محمد یونس صاحب ولد عبد العزيز صاحب ساکن لاڈ وہ ضلع کرنال کے ساتھ قرار پایا ہے سیٹھ صاحب نے لڑکی کی طرف سے مجھے ولی مقرر کیا ہے۔اس نکاح کے ساتھ ہی حضور نے ایک اور نکاح کا اعلان بھی فرمایا جو میاں غلام حسین صاحب رہتاسی کے ایک پوتے اور ایک پوتی کا تھا۔حضور نے فرمایا۔میں نے پہلے اس کاغذ کو نہیں دیکھا تھا۔میاں غلام حسین صاحب بھی بڑے پرانے احمدی ہیں اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بہت خدمت کی ہے۔ہم بہت چھوٹے تھے جب وہ نانبائی کا کام کیا کرتے تھے ان کے لڑکے بھی اس وقت ہمارے ہاں ہی رہا