خطبات محمود (جلد 3) — Page 457
خطبات محمود ۴۵۷ جلد سوم پکاتے ہیں تو اس قدر اس میں منہمک ہو جاتے ہیں کہ وقت کے گزرنے کی انہیں خبر تک نہیں ہوتی۔دوسرا آدمی جب انہیں اطلاع دے کہ دوپہر ہو گئی ہے تو کہتے ہیں ہم نے تو ابھی کام شروع ہی کیا تھا کہ اس قدر دن گزر گیا بعض لوگوں کو کہانیاں سنانے اور بعض کو سننے کی عادت ہوتی ہے۔جب کہانی شروع ہو جاتی ہے تو ان کو معلوم نہیں ہو تا کہ کتنی رات گزر چکی ہے۔گھر کے دوسرے لوگ ان سے کہتے ہیں کہ آدھی رات ہو گئی سوتے کیوں نہیں مگر ان کو سونے کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی اور انہیں محسوس نہیں ہو تا کہ کتنا وقت گزر گیا۔غرض خوشی کی لمبی گھڑیاں بھی انسان کو مختصر نظر آتی ہیں اور رنج کی چھوٹی گھڑیاں بھی لمبی بن جاتی ہیں۔میرا اپنا واقعہ ہے میری آنکھوں میں لکرے ہیں۔ایک دفعہ میر محمد اسماعیل صاحب نے جو میرے ماموں ہیں ایک آنکھ کے نگروں کو چھیل کر کا پر لگایا اور دوسری کے متعلق کہا کہ اگر ایک آنکھ کا آپریشن برداشت کر لیا گیا تو دوسری کا بھی کر دیا جائے گا۔آپریش ہونے کے بعد درم اور درد کے باعث مجھے سخت تکلیف ہوئی۔حضرت خلیفہ اول کی شروع خلافت کا ابتدائی زمانہ تھا۔آپ میرا حال پوچھنے کے لئے تشریف لائے تو عشاء کی اذان ہوئی اپریشن عصر کے بعد ہوا تھا جب اذان ہوئی تو میں نے حضرت خلیفہ اول سے کہا کہ صبح ہو گئی ؟ آپ نے فرمایا نہیں عشاء کی اذان ہے تو درد کے باعث گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ مجھے ایسا معلوم ہوا کہ گویا ساری رات جاگا ہوں۔غرض تکلیف اور درد کی گھڑی تھوڑی سی بھی بہت لمبی نظر آتی ہے۔انسان کی قدرتی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اسے آرام میسر آئے اور اس صورت میں وہ اپنی عمر کو چھوٹا سمجھے گا۔گویا اگر اس کی زندگی سو سال کی ہو تو آرام کی صورت میں اسے ایسا معلوم ہو گا کہ اس نے دس سال زندگی بسر کی اور اگر دس سال انسان پر رنج اور مصیبت کے آئیں تو اسے دس سال ہزار سال کے برابر معلوم ہوں۔یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں ان لوگوں کے متعلق جن کو آرام کی زندگی میسر تھی یو ما او بعض کیوم فرمایا گیا۔جب ان سے پوچھا جاتا کہ تم دنیا میں کس قدر زندگی گزار چکے ہو تو کہتے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔عیسائیوں پر جب راحت اور عروج کا زمانہ تھا ان کے متعلق قرآن مجید میں آتا ہے کہ كُمُ لَبِثْتُمْ قَالُوا لَبِثْنَا يوما أو بَعْضَ يوم لے کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ تم کتنا عرصہ رہے تو انہوں نے کہا ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے۔تو راحت کا زمانہ خواہ کس قدر بھی لمبا ہو قلیل نظر آتا ہے۔پھر اللہ تعالٰی اپنے دنوں کے متعلق فرماتا ہے۔اِنَّ يَومَا عِندَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ کے کہ۔۔۔