خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 376

خطبات محمود ٣٤٦ جلد سوم کے شاگرد نے بھی شعلہ کو چوم لیا جس نے اس بچے کو نہ چوما تھا مگر باقی کسی نے شعلہ کو نہ چوما تب اس نے دوسروں سے کہا کہ اگر تمہیں مرشد سے محبت تھی تو اب اس شعلہ کو کیوں نہ چوما؟ حضرت نظام الدین صاحب نے تو کسی وجہ سے اس بچہ میں خدا تعالی کا جلوہ دیکھا تھا اور اسے چوم لیا مگر مجھے اس میں وہ جلوہ نظر نہ آیا اس لئے میں نے اسے نہ چوما۔اب یہاں آگ کے شعلے میں بھی ان کو خدا کا جلوہ نظر آیا اور مجھے بھی اس میں خدا کا جلوہ نظر آیا تو میں نے اسے چوم لیا۔ممکن ہے وہ بچہ کسی نیک ماں باپ کا بیٹا ہو جن کے احترام کی خاطر انہوں نے اسے چوما ہو اور ساتھ ہی اتفاقی طور پر وہ خوبصورت بھی ہو لیکن اگر وہ بدصورت بھی ہوتا تو بھی وہ اس کے نیک ماں باپ کے تعلق کے احترام میں اسے چومتے۔مگر ظاہر بین نگاہوں نے یہ سمجھا کہ بچہ کی خوبصورتی کی وجہ سے اسے چوما حالا نکہ یہ کوئی شرط نہیں کہ نیک انسان کا بچہ خوبصورت نہ ہو۔ممکن ہے وہ ان کے کسی استاد کا بچہ ہو یا کسی بزرگ کا بچہ ہو یا کسی ایسے شخص کا بچہ ہو جو خدا تعالی کے نشانوں کو ظاہر کرنے والا ہو۔اس وجہ سے انہوں نے خدا کا جلوہ دیکھ لیا مگر دیکھنے والوں کو صرف بچہ اور اس کا چومنا نظر آیا۔انبیاء علیہم السلام اپنی بیویوں سے جو محبت کرتے ہیں بعض نالائق لوگ جو حقیقت کو نہیں سمجھتے وہ اسے ظاہری نگاہ سے دیکھتے ہیں حالانکہ اللہ تعالٰی نے میاں بیوی کے تعلقات کو اپنی محبت کا ایک نشان قرار دیا ہے۔غرض ماں باپ کی محبت خدا تعالیٰ کی محبت کا ایک ظل ہے، بیوی کی محبت بھی خدا تعالیٰ کی محبت کا ظل ہے اور اولاد کی محبت بھی خدا تعالی کی محبت کا ایک ظل ہے۔ماضی کے لحاظ سے ماں باپ کی محبت خدا کی محبت کی جانشین ہے حال کے لحاظ سے میاں بیوی کی محبت خدا کی محبت کی جانشین ہے اور مستقبل کے لحاظ سے اولاد کی محبت خدا کی محبت کی جانشین ہے۔گویا یہ تینوں ایک درس گاہ ہیں جن میں انسان اللہ تعالٰی کی محبت کا سبق سیکھتا ہے اور دوسروں کو سکھاتا ہے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے ایک مرتبہ اپنی بیوی سے سختی سے کلام کیا تو اللہ تعالیٰ کو یہ امرنا پسند ہوا۔اللہ تعالٰی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام کیا کہ مسلمانوں کے لیڈر عبد الکریم کو کہہ دیں کہ یہ طریق اچھا نہیں۔شو در اصل ظل کی ہتک اصل کی بھی ہتک ہوتی ہے۔ایک مخلص مہمان باہر سے یہاں آئے ہوئے تھے وہ اب بھی یہاں ہی ہیں انہوں نے ایک مرتبہ لنگر کے ایک ملازم کے ساتھ سختی کی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے