خطبات محمود (جلد 3) — Page 330
خطبات محمود ۲۳۰ جلد سوم نہیں پڑتا۔بادشاہ نگران ہے، خلیفہ نگران ہوتا ہے اسی طرح حاکم وقت نگران ہوتا ہے مگر کیا کوئی حکم یا قانون یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ جو چاہیں معاملہ کرلیں۔نگران تو اس بات کا ہوتا ہے کہ جو حق اس کو ملا ہے اسے وہ شریعت کے احکام کے مطابق استعمال کرے نہ یہ کہ جو چاہے کرے۔نگران کا مفہوم یہ ہے کہ اس کو شریعت کے ماتحت چلائے مگر ہمارے ہاں اس کا مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ جو چاہا کرلیا۔اس وجہ سے بعض لوگ عورتوں کو حقوق دینے کو تیار نہیں۔وہ ان کو گائے بکری سمجھتے ہیں اور عورتوں پر جبریہ حکومت کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ایسی حکومت تو خدا بھی نہیں کرتا۔وہ تو کہتا ہے تم وہی کہو جو تمہاری ضمیر کہتی ہے۔پھر خدا بھی بغیر اتمام حجت کے سزا نہیں دیتا۔باوجود اس بات کے کہ وہ مالک ہے تو پھر مرد کے مقابلہ میں عورتوں کو آزادی ضمیر کیوں حاصل نہیں۔- اس کے بر خلاف دوسری حد بھی خطرناک ہے جو عورتوں کی طرف سے ہے۔قَوَّامُونَ کا لفظ بھی آخر کسی حکمت کے ماتحت ہے۔یہ قانون خدا کا بنایا ہوا ہے جو خود نہ مرد ہے نہ عورت اس پر طرف داری کا الزام نہیں آسکتا۔پس ایسی ہستی کے قوانین شافی ہو سکتے ہیں۔عورت عموماً عورت کی طرف دار ہوتی ہے اور مرد کے طرف دار مرد - مگر خدا کو دونوں کا پاس نہیں۔وہ خالق ہے۔جو طاقتیں اس نے مرد کو دی ہیں ان کا اس کو علم ہے اور انہی کے ماتحت اس نے اختیارات دیئے ہیں۔قوامُونَ کے سر حال کوئی معنے ہیں جو عورت کی آزادی اور حریت ضمیر کو باطل نہیں کرتے۔اس کے لئے عورت کے افعال، اس کے ارادے، اس کا دین و مذہب قربان نہیں ہو سکتے مگر قوامون بھی قربان نہیں ہو سکتا۔نہ اس کا وجود وہی ہو سکتا ہے قوام نظر آنا چاہئے۔اس کے متعلق مثال بیان کرتا ہوں۔شریعت کا حکم ہے کہ عورت خاوند کی اجازت کے بغیر باہر نہ جائے۔مگر اس کے باوجود مرد عورت کو اس کے والدین سے ملنے سے نہیں روک سکتا۔اگر کوئی مرد ایسا کرے تو یہ کافی وجہ خلع کی ہو سکتی ہے۔والدین سے ملنا عورت کا حق ہے مگر وقت کی تعیین اور اجازت مرد کا حق ہے۔مثلاً خاوند یہ کہہ سکتا ہے کہ شام کو نہیں صبح کو مل لینا یا اس کے والدین کو اپنے گھر بلالے یا اس کو والدین کے گھر بھیج دے۔مگر جس طرح مرد اپنے والدین کو ملتا ہے۔اسی طرح عورت کا بھی حق ہے سوائے ان صورتوں کے کہ دونوں کا سمجھوتہ ہو جائے۔مثلاً جب فساد کا اندیشہ ہویا فتنے کا ڈر ہو۔مرد تو پہلے ہی الگ رہتا ہے۔مگر عورت خاوند کی مرضی کے خلاف باہر نہیں