خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 282

خطبات محمود ۲۸۲ جلد سوم داروں کو یاد رکھا جاتا تو ساری دنیا ایک خاندان ہوتی۔افغانستان سے ایک قبیلہ ہندوستان میں آکر آباد ہوا تو افغانستان والوں نے اسے بھلا دیا۔اگر اسے یاد رکھتے تو دونوں ملکوں کی آپس میں رشتہ داری ہوتی اور وہ ایک دوسرے کا لحاظ رکھتے اور اب بھی اگر دنیا رشتوں کو بجائے تفرقہ و فتنہ و فساد کے صلح کا موجب بنائے تو ساری دنیا جلد ہی ایک سلک رشتہ داری میں پروئی جائے۔ایک لطیفہ مشہور ہے کہتے ہیں میرٹھ کا ایک باشندہ وہاں کے ڈپٹی کمشنر کے پاس گیا اور جاکر کہا کہ میں فلاں بڑے آدمی کا قریبی رشتہ دار ہوں اس لئے میری ملازمت کا انتظام کر دیں۔اس نے کہا تمہاری اس سے کیا رشتہ داری ہے۔اس نے کہا نہایت ہی قریبی ہے۔اور جب اس نے پھر پوچھا تو کہا وہ میری بیوی کی پھوپی کے داماد کے بھائی کے اسی طرح ایک لمبی۔قطار رشتہ داری کی سنادی اور بعد میں کہا میں ان کا بہت ہی قریبی رشتہ دار ہوں۔تو ضرورت اور غرض کے لئے اب بھی دور دور سے رشتہ ملایا جاتا ہے اور دنیا میں لوگ اپنے مطالب کے لئے ایسا کرتے ہیں۔جنگ عظیم سے قبل جرمنی نے زبر دست پروپیگنڈہ کیا کہ ترکی، بلغاریہ اور ہنگری کے باشندے در حقیقت ایک ہی نسل سے ہیں اور اس بات پر اتنا زور دیا کہ ترکوں نے بھی اس اثر کو قبول کر لیا۔یہی وجہ تھی کہ وہ جنگ میں جرمنی کے ساتھ شامل ہو گئے۔شریعت نے یہ گر بتایا تھا کہ صلح کرنے کا یہ طریق ہے کہ رشتہ داری کو پھیلاؤ اور جس طرح دنیا ایک سے چلی تھی اسی طرح اسے ایک سلک میں لے آؤ مگر افسوس ہے کہ آج مسلمان دوسروں کو ساتھ ملانے کی بجائے اپنوں کو بھی علیحدہ کرتے جارہے ہیں۔اس اصول سے انگریز اب بھی فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔چنانچہ پچھلے دنوں جب ہندوؤں کی طرف سے انگریزوں کی مخالفت کا طوفان اٹھا تو مسٹر بالڈون شے نے پارلیمنٹ میں تقریر کی جس میں بتایا کہ ہم اور ہندو ایک نسل سے ہیں بھلا ہو سکتا ہے کہ ہم ان کے بدخواہ ہوں۔تو جن لوگوں نے فائدہ اٹھانا ہوتا ہے وہ اب بھی اٹھا لیتے ہیں۔لیکن جنہوں نے نہیں اٹھانا ہوتا وہ میرٹھ والے واقعہ کی طرح ان باتوں کو مذاق سمجھ لیتے ہیں۔ے فریقین کا الفضل سے تعین نہیں ہو سکا۔به بخاري - كيف كان بدء الوحي الى رسول الله سے بخارى كيف كان بدء الوحي الى رسول الله (الفضل یکم اپریل ۱۹۳۰ء صفحہ ۷۰۶)