خطبات محمود (جلد 3) — Page 278
خطبات محمود ۲۷۸ ۷۴ جلد موم اسلامی نکاح کو ایک علیحدہ شکل دینے کی وجہ فرموده ۲۲ - ماریچ ۱۹۳۰ء بعد نماز عصرا لے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے فرمایا۔لہ جس لڑکے کے نکاح کے اعلان کے لئے اس وقت کھڑا ہوا ہوں وہ خود اگر چہ یہاں موجود نہیں لیکن اس کے والد موجود ہیں اس لئے وہ یہ نصیحت اپنے بیٹے کو سنا دیں کہ اسلامی نکاح کے ساتھ ساتھ انسان پر کچھ ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں اور جب تک وہ ان کو قبول کر کے ان پر عمل نہ کرے تب تک اسلامی نقطہ نگاہ سے وہ نکاح ایک طرح باطل ہوتا ہے۔جن شرائط سے اسلام نکاح کو اپنی شاخ اور اپنے سلسلہ کی ایک فرع قرار دیتا ہے ان پر عمل کرنے سے ہی نکاح اسلام کا جزو ہو سکتا ہے ورنہ یوں تو دنیا میں دیگر مذاہب والوں کے ہاں بھی نکاح ہوتے ہیں اور اسلام سے قبل بھی ہوتے تھے۔اگر اسلام نے کوئی زائد بات نہ بتائی ہوتی تو مسلمانوں کو نکاح کے معاملہ میں دوسروں سے الگ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ہندوؤں یا عیسائیوں کی طرح ہی ان کا نکاح بھی ہو سکتا تھا۔لیکن اسلامی نکاح کو ایک علیحدہ شکل دے کر بتایا ہے کہ اس میں اور دوسرے مذاہب کے نکاحوں میں فرق ہے اور وہ فرق انہی ذمہ داریوں کا ہے جو اسلام نے لڑکے اور لڑکی پر ڈالی ہیں۔ے فریقین کا الفضل سے تعین نہیں ہو سکا۔(الفضل یکم اپریل ۱۹۳۰ء صفحہ ۶)