خطبات محمود (جلد 3) — Page 267
خطبات محمود ۲۶۷ جلد سوم بیچ سے اس قسم کے فوائد حاصل ہوتے ہیں جس قسم کے اس جنس سے تعلق رکھتے ہیں تو م مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ- میں یہ بتایا کہ انسان میں باوجود اخلاق، عادات اور قابلیتوں میں اختلاف ہونے کے پھر اشتراک ہے اور ایک قسم کا اتحاد ہے جس میں سارے کے سارے انسان شریک ہیں پس خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ- میں اس اشتراک کی طرف توجہ دلائی گئی۔آگے وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَہا میں ایک نئی بات کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔اور وہ یہ کہ جہاں زندگی کو کامیاب اور بآرام بنانے کے لئے دوسروں سے اشتراک کی ضرورت ہے وہاں تکمیل کے لئے دوسروں کو اپنے ساتھ ملانے کی ضرورت ہے۔کیونکہ تکمیل جوڑے کے بغیر نا ممکن ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے ہر چیز کا جوڑا ہے۔پس تحمیل کے لئے جو ڑا ضروری ہے۔مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ جوڑے میں اپنے جوڑے سے کسی قدر اختلاف اور فرق پایا جائے تاکہ ایک دوسرے کی کمی کو پورا کر دے ایک میں جو کمی ہو دوسرے میں اس کی زیادتی ہو اور جو دوسرے میں زیادتی ہو اس کی ایک میں کمی ہو۔ایسی دو چیزوں کے ملنے سے جو ڑا مکمل ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جیسی اقسام کے مرد پیدا کئے ایسی ہی اقسام کی عورتیں بھی پیدا کیں۔لیکن انسانی قوتیں اتنی محدود ہیں کہ کوئی انسان اپنی عقل سے اپنے لئے صحیح جو ڑا تلاش نہیں کر سکتا۔پھر انسان کے ساتھ ایسی شہوات لگی ہوئی ہیں کہ وہ ظاہر کی طرف زیادہ متوجہ ہو جاتا ہے چنانچہ جہاں مرد آپ عورتوں کا انتخاب کرتے ہیں وہاں زیادہ تر وہ شکل و شباہت حسب و نسب مال و دولت کا زیادہ خیال رکھتے ہیں اخلاق اور عمدہ عادات کی طرف بہت کم توجہ کرتے ہیں اس وجہ سے اکثر دھوکا کھا جاتے ہیں۔یورپ میں ایسے واقعات بکثرت ہوتے رہتے ہیں کہ اجنبی آکر کسی ہوٹل میں شاندار طریق سے رہتا ہے۔اس کی ظاہری حالت سے دھوکا کھا کر کوئی عورت اس کے جال میں پھنس جاتی ہے اور پھر سخت نقصان اٹھاتی ہے وہاں چونکہ عورت خود متولی ہوتی ہے اس لئے ظاہر سے دھوکا کھا کر پھنس جاتی ہے۔لیکن یہاں عام طور پر ماں باپ رشتہ تلاش کرتے ہیں اس لئے وہ ایسی باتوں کے متعلق احتیاط کر لیتے ہیں جو لڑکی کے لئے بعد میں مصیبت کا باعث بن سکتی ہیں۔خدا تعالٰی فرماتا ہے۔ہم نے ہر نفس کے لئے جوڑا بنایا ہے اور کوئی ایسا نفس نہیں جس کے لئے ویسا ہی جوڑا نہ ہو۔صوفیاء نے تو لکھا ہے ارواح اپنے جوڑے کی تلاش میں پھرتی رہتی ہیں اور جب انہیں جو ڑا مل جاتا ہے تب تسلی پاتی ہیں۔صوفیاء علم روحانی کے ماہر تھے اس لئے انہوں نے روح کے متعلق یہ حقیقت بیان کی۔آج کل