خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 257

خطبات محمود ۲۵۷ ۷۰ جلد سو شادی کے معاملہ میں استخارہ اور دعاؤں کی ضرورت فرموده ۱۶ جنوری ۱۹۳۰ء) له ۱۲- جنوری ۱۹۳۰ء بعد نماز عصر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ایک نکاح کا اعلان فرمایا۔خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : اگر چه سخت کھانسی کی وجہ سے میں اچھی طرح بول نہیں سکتا لیکن نکاح چونکہ نہایت اہم اور دنیوی معالموں میں سب سے ضروری ہے اس لئے ایسے موقع پر کچھ کہنا بھی ضروری ہوتا ہے۔مجھے نہایت تعجب آتا ہے کہ باوجود اس کے کہ نکاح اہم ترین مسائل میں سے ہے اس کی اہمیت کی طرف توجہ نہیں کی جاتی اور بجائے اس کے کہ وہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قواعد کے مطابق کیا جائے تا وہ اس کی طرف متوجہ کرنے کا موجب ہو عام لوگ ذاتی میلانوں اور نفسانی خواہشوں کے ماتحت اسے سرانجام دیتے ہیں۔ہماری شریعت نے نکاح بلکہ ہر معاملہ کو ہی سرانجام دینے کیلئے ایسے طریقے مقرر کر دیئے ہیں کہ اگر انسان ان پر عمل کرے تو ہر قسم کے فتوں سے بچ سکتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالٰی نے صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے ساتھ غَيرِ المَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الصَّالِينَ۔لے کا بھی ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے که صراط مستقیم حاصل کر لینے کے بعد بھی انسان گمراہ ہو سکتا ہے۔اسی طرح یہ عین ممکن ہے کہ ایک انسان کی شادی اس کیلئے اولاً بابرکت ہو لیکن بعد میں وہ اس کیلئے رنج کا موجب ہو جائے یا مصیبت کا باعث بن جائے لیکن پھر بھی یہ دیکھنا چاہئے کہ پہلی بنیاد صحیح ہو۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں بعض بچے نہایت تندرست پیدا ہوتے ہیں اور ایک عرصہ تک ان کی صحت بہت اچھی رہتی ہے لیکن بعد میں خراب ہو جاتی ہے اسی طرح بعض بچپن میں بیمار اور مریض ہوتے ہیں در