خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 256

خطبات محمود ۲۵۶ جلد سوم میرے نزدیک مومن کو اپنے کاموں میں ایک رنگ یہ بھی اختیار کرنا چاہئے جیسے انسان کو جسمانی ترقی کے لئے مختلف غذا ئیں کھانی پڑتی ہیں۔وہ گوشت، سبزی، پھل، ترکاری کھاتا ہے اور اس طرح جسم کی ترقی ہوتی ہے۔اسی طرح خدا تعالی نے روحانی ترقی کے لئے کچھ دنیوی تدبیریں رکھی ہیں اور کچھ دینی اور کچھ تو کل ہے۔یوں تو دین و دنیا کے سب کاموں میں جو مو من کرتا ہے یہ تینوں باتیں شامل ہیں۔مثلاً جب انسان دنیا کا کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے ظاہری تدابیر سے کام لیتا ہے۔یہ دنیوی تدابیر ہو ئیں پھر نیت کرتا ہے۔اگر اس میں مجھے فائدہ ہوا تو میں دین کی خدمت کروں گا یہ دینی پہلو ہو گیا اور پھر اس میں کامیابی کے لئے دعا بھی کرتا ہے یہ تو کل ہو گیا۔اسی طرح اگر کوئی دین کا کام کرتا ہے تو سمجھتا ہے اس طرح مجھ پر اللہ تعالی کا فضل دنیوی رنگ میں بھی ہو گا اور میں دنیا میں آرام کی زندگی بسر کروں گا پھر دعا کرتا ہے اس طرح ایسے کام میں بھی یہ تینوں باتیں شامل ہوتی ہیں اسی طرح جب کوئی انسان تو کل کرتا ہے تو اس دائرہ کے اندر اندر تدبیر بھی کرتا ہے۔پس ہر کام میں یہ تینوں باتیں شامل ہوتی ہیں مگر کسی کام میں دنیوی تدابیر کا پہلو بڑھا ہوتا ہے کسی میں دینی کا اور کسی میں تو کل کا۔مومن کے لئے یہ بڑی برکت کا موجب ہوتا ہے کہ وہ یہ تینوں رنگ نمایاں طور پر دکھائے یعنی وہ ایسے کام کرے جن میں دنیوی تدابیر کا پہلو غالب ہو۔ایسے کام بھی کرے جن میں دینی تدابیر کا پہلو بڑھا ہوا ہو اور ایسے کام بھی کرے جن میں تو کل کا پلہ بھاری ہو۔اس طرح اس کا روحانی جسم مکمل ہو جاتا ہے جو صرف دنیاوی یا صرف دینی یا صرف تو کل کا پہلو اختیار کرنے سے نہیں ہو سکتا۔جب تینوں رنگ اختیار کئے جاتے ہیں تب روحانی جسم مکمل ہو جاتا ہے۔الفضل ۲۴ - دسمبر ۱۹۲۹ء صفحہ ۷ ) له بنی اسرائیل : ۲۱