خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 236

خطبات محمود نہیں رہتا۔FFY جلد سوم پس اعمال دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جن میں انسان کا اختیار ہوتا ہے اور ایک وہ جن میں کوئی اختیار نہیں ہوتا۔قرآن کریم کے سوا دنیا کی کسی اور مذہبی کتاب نے یہ فرق بیان نہیں کیا۔میں انعام دے سکتا ہوں کہ اگر کوئی الہامی کتاب سے یہ فرق دکھائے کہ اعمال دو قسم کے ہوتے ہیں ایک اختیاری اور دوسرے غیر اختیاری۔اور وہ اعمال جو اختیاری نظر آتے ہیں ان میں بھی ایک حصہ بے اختیاری ہوتا ہے۔نکاح کے موقع پر جو ایک آیت پڑھی جاتی ہے اس میں اس کا ذکر موجود ہے۔چنانچہ خدا تعالی فرماتا ہے۔آيَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَ قُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا ، يُصْلِحُ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبُكُمْ - له اے مومنو! کچی اور پکی بات کہہ دیا کرو جو دل میں ہو وہ کہہ دیا کرو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال درست کر دے گا۔سچ بات کہنا خود ایک عمل ہے۔مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے اس سے تمہارے اعمال درست کر دیئے جائیں گے۔مطلب یہ ہے کہ بعض اعمال ایسے ہیں جن کو تم درست نہیں کر سکتے وہ اعمال ایسے ہیں جو تمہارے اختیار میں نہیں ہیں اور تم معذور ہو۔پھر تمہیں کیا کرنا چاہئے یہ کہ جو اعمال تمہارے اختیار میں ہیں وہ کر لو اور جو بے اختیاری والے ہیں ان کو ہم کر دیں گے۔کئی لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آکر کہتے ہیں ہمیں نماز میں لذت نہیں آتی ہم کیا کریں۔آپ فرماتے تم نماز پڑھ لیا کرو۔نماز پڑھنا تو تمہارے اختیار کی بات ہے تمہارے حصہ میں جو کام ہے اسے تم کر لو خدا اپنے حصہ کا کام آپ کرلے گا۔تو فرمایا گیا تھا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا ، تُصْلِحُ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ۔تمہارے کام دو قسم کے ہیں ایک وہ جو تم کر سکتے ہو اور دوسرے وہ جو تم نہیں کر سکتے۔مثلاً خیالات کا انتشار یا ایسے اعمال جن کی انسان کو عادت پڑ جائے۔تو فرمایا تم ایک حصہ کی جو تمہارے اختیار میں ہے درستی کر لو دوسرے حصہ کی جو تمہارے اختیار میں نہیں ہے ہم خود اصلاح کر دیں گے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے دو قسم کے اعمال تسلیم کئے ہیں اور پھر یہ گر بتایا ہے۔کہ جو اعمال کر سکتے ہو کر لو اور جو نہیں کر سکتے ان کے متعلق آسمان سے ایسی طاقتیں نازل ہوں گی کہ وہ درست ہو جائیں گے۔نکاح میں بیسیور ، باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں انسان دیکھ کر درست کر سکتا ہے مگر بعض ایسی