خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 169

خطبات محمود 149 جلد سوم حمد کا مستحق خدا ہی ہے (فرموده ۲۴ - اکتوبر ۱۹۲۲ء) میاں محمد ظہور صاحب ساکن پٹیالہ برادر خورد ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب کا نکاح ۲۴۔اکتوبر ۱۹۲۲ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے سکینہ بنت میاں عبد الحق صاحب ساکن بدو ملی سے مبلغ پانچ سو روپیہ مہر بشمولیت زیور پڑھا۔لے خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا : رسول کریم نے خطبہ نکاح کا خلاصہ یعنی وہ مضمون جو ان آیات سے استدلال ہوتا ہے جن کا رسول کریم ﷺ کے فعل سے نکاح کے خطبہ میں پڑھنا مسنون ہے وہ اس عبارت میں بیان فرمایا ہے - اَلْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُ، وَ نَستَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُ، سے یہ بھی کو مختصر ہے لیکن - قرآن کریم کی آیات کی طرح مختلف مضامین اس میں سے نکلتے ہیں۔ان آیات سے علاوہ اجتماع اور نکاح سے متعلق مسائل کے اور مسائل بھی نکلتے ہیں اور قرآن کی آیتوں میں اور بھی دقیق معارف ہیں لیکن رسول کریم ﷺ نے ان آیات میں اس موقع پر جو خلاصہ نکالا ہے وہ اتنا ہے جو نکاح سے تعلق رکھتا ہے۔اس خلاصہ میں بتایا گیا ہے کہ سب تعریف اللہ کے لئے ہے اور کسی کی صحیح تعریف اور بچی تعریف خدا ہی کر سکتا ہے۔دیکھ لو یہ کس قدر مختصر فقرہ ہے مگر اس کا نکاح کے معاملہ میں کس قدر اثر ہے۔بہت سے نکاح با برکت نہیں ہوتے اس لئے کہ لوگ ایسی خوبیوں کے امیدوار ہوتے ہیں جو بعد میں ملتی نہیں۔لوگ دولت مند، بڑے حسب والی اور خوبصورت عورت سے شادی کرنا چاہتے ہیں ان کا خیال ہوتا ہے کہ دولتمند، مالدار اور بڑے