خطبات محمود (جلد 3) — Page 123
خطبات محمود ۳۶ { ۱۲۳ نسل انسانی کی بقاء کا سامان فرموده ۲۴ - دسمبر ۱۹۲۱ء بعد نماز عصر ) لے خطبہ مسنونہ پڑھنے کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے فرمایا : دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کی فطرت اجتماع کے اوپر ایک خاص قسم کی لذت حاصل کرتی ہے وہ لذت خواہ کسی شکل میں ہو مگر ہوتی ہے۔ایک دوست دوست سے ملتا ہے اس کو لذت ملتی ہے بھائی بھائی سے مل کر لذت حاصل کر سکتا ہے۔ماں باپ بچہ سے اور بچہ ماں باپ سے مل کر لذت حاصل کرتے ہیں۔غرض تمام انسانوں کو آپس میں مل کر ایک لذت آتی ہے۔گو وہ اس کو محسوس نہ کریں۔ثبوت یہ ہے کہ جنگل میں اکیلا انسان جا رہا ہو۔وہاں کوئی شخص کیسا ہی اجنبی اور زبان سے ناواقف ملے اس سے مسرت حاصل ہوگی۔ایک ہندوستانی جو پشتونہ جانتا ہو اور ایک پٹھان جو اردو سے ناواقف ہو دونوں جب جنگل میں ملیں گے تو مسرت پائیں گے تو معلوم ہوا کہ انسان کو انسان سے مل کر مسرت ہوتی ہے گو مخفی ہو مگر وہ تھوڑی نہیں ہوتی۔جیسے ناک آنکھ کان سے جو لذت ہے وہ مخفی ہے اس کو انسان یوں محسوس تو کرتا ہے مگر جب آنکھیں تم ہو جائیں شنوائی اور قوت شامہ ضائع ہو کر پھر ملے تو کتنی خوشی اور راحت اور لذت حاصل ہوتی ہے۔آنکھ بیمار ہو ڈاکٹر پٹی باندھ کر حکم دے دے کہ کھولنا مت۔مگر انسان چوری چوری پٹی اٹھا کر دیکھتا ہے۔اس حالت میں آنکھ ضائع بھی ہو جاتی ہے۔اگر اس وقت روشنی نظر آتی ہے تو کتنی خوشی اور لذت ملتی ہے۔کان نہ سنے مگر پچکاری سے یا مرض کا دورہ پورا ہونے سے آرام ہو تو انسان کتنا خوش ہوتا ہے۔ناک کی قوت نہ رہے اور پھر مل جائے جلد سوم