خطبات محمود (جلد 3) — Page 105
خطبات محمود ۱۰۵ چلاید موهم خواہ وہ جھوٹی تھی یا کچی۔اور اب بھی جو ہیں ان کی موجودگی کی بھی یہی وجہ ہے۔یہ اور بات ہے کہ تنقید اور امتحان میں آکر گر جائیں۔مثلاً عیسائیت میں ایک بات ہے جو لوگوں کو کھینچتی ہے اور وہ تعلیم ہے جو مسیح کی نسبت بیان کی جاتی ہے کہ وہ دنیا کے لئے قربان ہوا۔خواہ ایک شخص کتنا ہی پڑھا لکھا ہو۔فلسفی ہو۔ایم۔اے ہو یا سائنس کے اعلیٰ ماہر اس کے سامنے مسیح کے متعلق اس ترتیب کے ساتھ واقعات لائے جاتے ہیں کہ اس کی تمام دانائی پر پردہ پڑ جاتا ہے۔اور وہ ان سوالات پر قطعا کوئی غور نہیں کرتا کہ کیا ایسا ہو بھی سکتا ہے یا ایسا کیا بھی جاسکتا ہے۔اس وقت اس کے جائز یا نا جائز ہونے پر غور نہیں کرتا اور مسیح کے دامن کو پکڑ لیتا ہے پھر جب ایک دفعہ محبت ہو جائے تو اس سے پھیر دینا آسان نہیں۔اس شخص کو ایک تسلی حاصل ہو جاتی ہے جو اگر چہ جھوٹی ہوتی ہے۔مگر وہ اس تلی کو دلائل کے زور سے چھوڑنا نہیں چاہتا۔بس وہ یہی خیال کرتا ہے کہ خدایا خدا کا بیٹا آیا اور انسان کے لئے قربان ہو گیا اور اس نے میرے بھی گناہ اٹھائے مگر اس قسم کی کوئی بات آریہ مذہب میں نہیں پائی جاتی اس لئے یہ مذہب کا ئم رہنے والا نہیں۔لیکن ایسے بھی مذاہب ہیں جو یہ باتیں رکھتے ہیں جن میں سے ایک عیسائیت ہی ہے۔جس کا میں نے ذکر کیا ہے۔مگر اس سے بھی خطرہ نہیں کیونکہ صحیح طور پر جذبات کو ابھارنے والی تعلیمات اور باتیں اسلام میں بھی ہیں اور بکثرت ہیں گو مسلمانوں نے ان کی طرف سے غفلت کی ہے اور اب خدا نے اپنے مسیح کو بھیج کر اس راز کو کھول دیا ہے اور اب مسلمانوں کے ہاتھوں میں دلائل بھی ہیں اور جذبات کو اپیل کرنے والی باتیں بھی۔یہ دو دھاری تلوار ہے جس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا۔اسلام تسلی اور مشاہدہ پیش کر سکتا ہے اور وہ سامان بھی دیتا ہے اور اس کے ساتھ دلائل بھی دیتا ہے۔پس عیسائیت اسلام کا مقابلہ کس طرح کر سکتی ہے۔یہی دو جارحانہ مذہب خیال کئے جاتے ہیں۔ہندو اور عیسائی مگر عوام ہندو بالعموم اس میدان میں نہیں آتے صرف آریہ ہیں جن کو مذہب کا خلاصہ کہنا چاہئے ان کا ہندوستان میں شور ہے اور باقی دنیا میں عیسائیت اپنا جوش دکھلا رہی ہے لیکن یہ دونوں مذاہب مذہبی طور پر اسلام کے مقابلہ میں نہیں ٹھر سکتے۔لیکن ایک اور طاقت ہے جو اسلام کے مقابلہ میں آہستہ آہستہ چھوٹے بیج کی طرح نشو و نما پارہی ہے اور وہ دنیا کی تمدنی حالت ہے۔دنیا کی تمدنی حالت ایسی بدل گئی ہے جو اسلام کے وقت میں نہ تھی بلکہ اب یہ حالت ہوئی ہے اور لوگ ادھر آرہے ہیں کہ آرام دہ چیزوں کو لے لو