خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 93

محمود ۹۳ چاند سوم کا کوئی کام استخارہ کے بدوں نہیں ہونا چاہئے۔کم از کم بسم اللہ سے ضرور شروع ہو اور طریق استخارہ یہ ہے کہ دعائے استخارہ پڑھی جائے۔ایک دفعہ کم از کم در نہ سات دن تک عموماً صوفیاء نے چالیس دن رکھے ہیں۔اس کی بہت برکات ہوتی ہیں جن کو ہر ایک شخص جس کو تجربہ نہ ہو نہیں سمجھ سکتا۔ایک شخص روئی کا بہت بڑا سودا کرنے لگا۔حضرت خلیفہ اول سے مشورہ لیا آپ نے فرمایا استخارہ کرو۔انہوں نے کہا اس میں یقینی فائدہ ہے۔آپ نے فرمایا کہ کیا حرج ہے استخارہ کے معنے بھی خیر طلب کرنے کے ہیں۔آخر انہوں نے اسکراہ سے استخارہ کیا۔جب وہ سودا کرنے لگے اللہ تعالیٰ نے ایسا سبب ان کے لئے بنایا کہ وقت پر ان کو علم ہو گیا اور وہ سودا کرنے سے رک گئے اور کئی ہزار کے نقصان سے بچ گئے۔تو اس کے بہت سے فوائد ہیں اس لئے اس معاملہ میں ضرور استخارہ کرنا چاہئے۔ہندوؤں کے پاس رہنے سے مسلمانوں پر یہ اثر پڑا ہے کہ انہوں نے اپنی اسلامی سادگی جو نکاح میں تھی قربان کردی۔نکاح کے لئے کسی روپیہ کی ضرورت نہیں۔مرعورت کا حق ہے جو مرد کی حیثیت پر ہے وہ بہر حال دیتا ہے باقی جو یہ سوال لڑکی والوں کی طرف سے لڑکے والوں سے ہوتا ہے کہ کیا زیور کپڑا دو گے اور اسی طرح لڑکے والوں کی طرف سے یہ کہ کیا لڑکی کو دو گے بہت تباہی بخش اور ذلیل طریق ہے۔اس طریق نے مسلمانوں کی جائدادوں کو تباہ کر دیا اور کہتے ہیں کہ ناک نہیں رہتی۔لوگ پوچھتے ہیں لڑکی کیا لائی اور اسی طرح لڑکے والوں کی طرف سے کچھ نہ ہو تو لڑکی والے کہتے ہیں ہماری ناک کٹتی ہے۔چونکہ اس طریق سے تباہی آتی ہے اس لئے جماعت کو بچنا چاہئے اور بجائے بڑے چیزوں والی لڑکی اور بڑے زیور لانے والے لڑکوں کے یہ دیکھنا چاہئے کہ لڑکی جو گھر میں آئی ہے وہ مسلمان ہے اور لڑکا مسلمان ہے ورنہ بڑے بڑے زیور تباہی اور بربادی کا باعث ہو جاتے ہیں اور اس سے خاندان تباہ ہو جاتے ہیں اور دین بھی ضائع ہو جاتا ہے اور لوگ سود میں مبتلاء ہو کر جائدادوں کو برباد کر دیتے ہیں اور اس کی ایک جڑ ہے وہ یہ کہ لوگوں میں رواج ہے کہ جینز وغیرہ دکھاتے ہیں اس رسم کو چھوڑنا چاہئے۔جب لوگ دکھاتے ہیں تو دوسرے پوچھتے ہیں جب دکھانے کی رسم بند ہوگی تو لوگ پوچھنے سے بھی ہٹ جائیں گے۔ہمیشہ اس بات پر جانبین کی نظر ہونی چاہئے کہ ہمارے دین پر ہمارے اخلاق پر اس معاملہ کا