خطبات محمود (جلد 3) — Page 78
خطبات محمود ۷۸ جلد سوم یقین جانو کہ اللہ تعالی کے نزدیک تم امانت دار نہیں کہلا سکتے۔لوگ عموماً زوجین کے انتخاب میں جمال اور مال اور حسب وجاہ کو نصب العین رکھتے ہیں۔مگر ہمارے آقا محمد ﷺ فرماتے ہیں۔فَاظُفَرُ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ - له یعنی تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں دیندار عورت انتخاب کرو تاکہ تم اس کے ذریعے سے اس عظیم الشان امانت کو بغیر کم و کاست کے ادا کر سکو۔دین ہی ایک ذریعہ ہے جس سے انسان پورا پورا تقویٰ حاصل کر سکتا ہے۔اور صرف دین ہی ایک وسیلہ ہے جس سے انسان کی عقل و فکر، اس کا علم و عرفان، اس کی استعدادیں اور قابلیتیں اور اس کے اخلاق و اعمال صالحہ محفوظ رہ سکتے ہیں اور اسی کے ذریعہ وہ اپنی ذات کو ایک اعلیٰ بقاء نوع کی صورت میں منتقل کر سکتا ہے۔اگر انسان میں دینی روح نہیں تو کچھ بھی نہیں۔نہ جمال ہے نہ مال، نہ حسب و جاہ ہے، نہ علم و فضل کسی کام کا ہے اور نہ اخلاق ہیں اور نہ ہی سعادت کی زندگی۔مسئله ازدواج ایک اہم مسئلہ ہے اور اس کے متعلق صحیح انتخاب کرنا بہت مشکل امر ہے۔انسان کا علم بہت ہی محدود ہے بلکہ ناقص ہے۔بسا اوقات ایک شخص دوسرے شخص کے ساتھ برسوں رہتا ہے اور پھر بھی اس کا تجربہ اس کے اخلاق و اطوار کا صحیح اندازہ نہیں کر سکتا۔ہمارے آقا محمد ال نے اس مشکل کو آسان کرنے کے لئے ایک راہ بتلائی ہے۔اور وہ دعا ہے چونکہ اللہ تعالی کی ذات ہی ہر ایک نفس کے متعلق کامل علم رکھتی ہے اور کوئی شے بھی آسمان و زمین میں اس کے علم سے پوشیدہ نہیں ہے اور وہ ذات پاک بہتر سمجھتی ہے کہ کون کون سی زوجین آپس میں مناسب اور بہتر ہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ وہ ذات اس پر بھی قادر ہے کہ غلط انتخاب کے بعد بھی اپنی رحمت سے ایسے حالات پیدا کر دے جو مقصود حقیقی تک پہنچنے کے لئے محمد ولد دگار ہوں اس لئے رسول کریم ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم شادی سے پہلے استخارہ کر لیا کریں۔سہ یعنی اللہ تعالی کے حضور درد دل سے دعا کریں کہ وہ اپنے علم و رحمت و قدرت سے ایسی راہ کی طرف رہبری کرے جو سعادت دارین کا موجب ہو اور اپنے ہر پہلو سے برکات رکھتی ہو۔خطبہ نکاح میں جو آیات پڑھی جاتی ہیں ان کا بھی ماحصل یہی ہے جو میں نے بیان کیا ہے چنانچہ ان میں سے اللہ تعالی ایک آیت میں فرماتا ہے وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ - سه یعنی