خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 76

خطبات محمود ८५ اپنی شہوات نفسانی پر اکتفا کر کے اصل مقصد زندگانی کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ یہ وہ خیانت ہے جس کا انسان مرتکب ہوتا ہے اور یہ خیانت اس سے کئی طریق سے سرزد ہوتی ہے۔ ہوتا ہے یہ سے سے سرزد ہے اول یہ کہ وہ اپنی خداداد استعدادات اور طاقتوں کو اعمال صالحہ کی آبپاشی سے مثمر نہیں بناتا یا بد اعمالی سے انہیں بگاڑ کر ان کا ستیا ناس کر دیتا ہے اور اس طرح اس کی وہ استعدادیں اور ناس کر دیتا ہے اور اس طرح اس کی وہ استعداد قوتیں اس کی اولاد میں اول تو پورے طور پر منتقل نہیں ہوتیں اور اگر ہوتی ہیں تو مسخ شدہ فاسد صورت میں ہوتی ہیں۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ اس میں انہی قوتوں اور اعلیٰ اخلاق کا بیچ صحیح سالم موجود ہے اور اس بیچ میں عملی تقویٰ کی روح بھی محفوظ ہے مگر وہ جس زمین کو اختیار کرتا ہے بالکل ناقص ہوتی ہے اور یہاں تک کہ بیج بھی اس میں پڑ کر خاک ہو جاتا ہے۔ صرف باپ کی اپنی ہی صلاحیت الی امانت کے محفوظ رکھنے اور اس کے منتقل کرنے کے لئے کافی نہیں بلکہ اس کی حفاظت و بقاء میں ماں کا بھی بہت سادخل ہوتا ہے۔ ہوتے بسا اوقات ہم نے دیکھا ہے کہ اگر باپ بچے پر نماز کے چھوڑنے یا کسی بد اخلاقی کی وجہ سے سرزنش کرتا ہے تو جاہل ماں اس کی طرف غصہ سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتی ہے اور جو نہی کہ وہ باہر جاتا ہے بچے کو گلے لگا کر اس کے ساتھ آہیں بھرتی اور اس کی دلجوئی کرنا شروع کر دیتی ہے اور اس کے منہ سے ایسے الفاظ نکلتے ہیں جس سے انجان بچے کے ذہن نشین ہو جاتا ہے کہ اس کا باپ واقع میں بڑا ظالم ہے۔ نماز جیسی معمولی بات پر اس نے ایسی سختی کی۔ ہوتے ہو۔ نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ ایک طرف نماز کی قدر اس کے دل سے جاتی رہتی ہے اور دوسری طرف باپ کی اطاعت کی رغبت کم ہوتے ہوتے آخر کار حقوق والدین ترک کر کے کفر الہی نتیجہ ہوتا ہے۔ ابتداء میں تو یہ معمولی بات نظر آتی ہوگی مگر اس کا نتیجہ اخلاق و تقوی کی تباہی ہو جاتی ہے بچے کی سادہ فطرت راست گوئی کی طرف مائل ہوتی ہے اور اگر اس نے کوئی نقصان کر دیا ہو تو پوچھنے پر وہ صاف کہہ دے گا کہ اس نے کیا ہے مگر یہ مائیں ہی ہوتی ہیں جو اسے سکھاتی ہیں کہ کہو میں نے نقصان نہیں کیا اور اس طرح وہ انہیں آگاہ کرتی ہیں کہ دنیا میں واقعات کے خلاف کہنا بھی کوئی شے ہے۔ جیسا کہ بیوی کے انتخاب کرنے میں خطرناک غلطیاں ہوتی ہیں ایسا ہی شوہر کے انتخاب کرنے میں بھی غلطیاں ہو جاتی ہیں اور ایک نیک اور صالحہ بیوی کسی خبیث انسان کے حوالے ہو کر تباہ ہو جاتی ہے۔ ایک احمدی خاتون کی شادی اس کے والد نے غیر احمدی کے ہاں کر دی۔