خطبات محمود (جلد 3) — Page 75
خطبات محمود ۷۵ جلد سوم اونی چیز کی خاطر قربان کرنی پڑتی ہے کہ بعض وقت یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں ہوتا کہ ان میں سے اعلیٰ کون ہے اور ادنی کون۔اور باوجود اس کے ایسی راہ اختیار کرنی پڑتی ہے جس سے بقاء نوع کی امید بر آسکے۔نہ صرف انسان میں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بقاء نسل کے لئے جان جوکھوں میں ڈالتا ہے اور مصیبتیں جھیلتا ہے اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دیتا ہے بلکہ ادنیٰ سے ادنی حیوان بھی انسان سے کچھ کم جانفشانی نہیں دکھاتے۔ایک مرغی کو دیکھئے کہ جونہی اس سے کئی درجہ زبر دست پرندہ یا درندہ اس کے بچوں کو اٹھالے جانے کے لئے جھپٹا مارتا ہے تو فورا پروں کو پھیلاتی اور غصے سے جھنجھلا کر شور و غل مچاتی ہوئی اس پر حملہ کر دیتی ہے حالانکہ وہ اس دشمن کے مقابلہ میں نہایت ہی کمزور ہوتی ہے۔اور غالبا اپنے اس مقابلہ میں خود ہی شکار ہو جاتی ہے یا بچوں کو اس کے منہ سے چھڑا نہیں سکتی مگر وہ جتنا کہ اس سے ہو سکتا ہے ان کی سلامتی کے لئے جدوجہد کرتی ہے اور اسے اپنی جان کی مطلق پروا نہیں ہوتی۔غرض اس قسم کے مشاہدات ہمیں جتلاتے ہیں کہ بقاء نسل کی اہمیت کا احساس حیوانات میں کس قدر قوی ہے۔انسان بھی اس تقاضا فطرتی میں ان کے شریک حال ہے لیکن ان میں اور اس میں ایک فرق ہے کہ حیوانات اپنے طبعی خواص اور قومی اور افعال وغیرہ میں ہو بہو اپنی نسلوں میں منتقل کر کے ان کی کماحقہ حفاظت کرتے ہیں اور وہ بار امانت جس کے متعلق قرآن میں آیا ہے کہ زمین و آسمان نے فَابَيْنَ اَنْ يَحْمِلْنَهَا وَاشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الانسان سے اس میں خیانت کرنے سے انکار کیا۔انسان نے اس میں خیانت کی اور اس کو ادا نہیں کیا۔سب کائنات اپنے مقررہ افعال اور واجبات کو اپنی طبیعت کے موافق ادا کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ انسان بھی جہاں تک اس کی طبعی شہوات کا تعلق ہوتا ہے وہ اپنے واجبات کو سمجھتا ہے اور انہیں ادا کرتا ہے مگر شہوات کے تقاضوں کو اس طرح پر ادا کرنا کوئی خوبی نہیں۔یہ ایک طبعی فعل ہے جو ایک پتھر بھی کر رہا ہے لیکن جہاں کہ عقل و فکر اور اخلاق و تقویٰ کا تعلق ہے وہاں انسان اس الہی امانت کو ادا نہیں کرتا بلکہ اس میں خیانت کرتا ہے یعنی اسے اس بات کی مطلق پرواہ نہیں ہوتی کہ اللہ تعالٰی نے جو اعلیٰ قومی اس کو دیئے ہیں جو علم و معرفت اسے عطا کی ہے اور جو اخلاق فاضلہ کے متعلق اسے ادراک دیا ہے اور جو تقویٰ کے اصول و قواعد سکھلائے ہیں ان کو بھی کما حقہ اپنی اولاد تک پہنچانے کی فکر و کوشش کرے۔وہ صرف