خطبات محمود (جلد 3) — Page 74
خطبات محمود ۷۴ جلد سوم کے مادے اور شکل میں منتقل کر کے اسے محفوظ رکھنے کی پوشیدہ قوت رکھتا ہے اور خالق قدرت نے اس پیج کو پھر اس درخت جیسی شکل و صورت میں ظاہر ہونے کے لئے قسم قسم کے سامان پیدا کر دیئے ہیں۔موجودہ علم نے نباتات کے متعلق بحث و تحقیق کرتے ہوئے آخر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان میں بھی حیوانات کے سے احساسات و انفعالات موجود ہیں۔پس یہ کہنا بالکل بجا ہو گا کہ خود درختوں کی طبیعت میں بھی یہ مخفی تقاضا پایا جاتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح اپنے آپ کو باقی رکھیں۔حیوانات میں بھی ہم یہی مشاہدہ کرتے ہیں کہ ان میں سے ادنیٰ سے ادنی حیوان حتی کہ ایک کیڑا بھی یہ خواہش رکھتا ہے کہ اس کی نوع باقی رہے اور اللہ تعالٰی نے اس کے باقی رکھنے کے لئے اسباب موجود کر دیے ہیں۔اس عام قانون فطرت کے ماتحت انسان میں بھی یہ خواہش لگی ہوتی ہے کہ وہ اپنی ذات کو ایک دوسرے وجود میں منتقل کر کے اسے دنیا میں باقی رکھے خواہ کوئی انسان اسے محسوس کرے یا نہ کرے۔کوئی بھی ایسا فرد بشر نہیں ہے۔جس میں بقاء نسل کی خواہش نہ ہو۔ضرور ہر ایک انسان چاہتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اپنی آنکھوں سے اپنی ذات کو کسی دوسری ہستی میں منتقل شدہ دیکھ لے اور یہ خواہش اس میں ایسی قومی اور مستحکم ہے کہ بعض وقت اس کے پورا کرنے کی خاطر ا سے اعلیٰ کو ادنی کے لئے قربان کرنا پڑتا ہے۔دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی بچہ موت کے خطرے میں آجاتا ہے تو اس کے والدین اس کو بچانے کے لئے اپنے آپ کو اس خطرہ میں ڈال دیتے ہیں۔خود ہلاک ہو جائیں گے لیکن یہ دیکھنا کبھی گوارہ نہ کریں گے کہ وہ بچہ جو کل کو ان کی بقاء نوع کا ذریعہ ہے موت کا شکار ہو جائے۔بارہا واقعات سننے میں آئے ہیں کہ ماؤں نے اپنے بچوں کو بچانے کے لئے اپنے آپ کو دریا میں یا آگ میں پھینک دیا۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ یہ خواہش انسان میں کس قدر زبردست ہے۔یہاں تک کہ اس کے پورا کرنے کے لئے اپنی ہستی بھی بیچ ہے۔جن بچوں کو بچانے کے لئے والدین نے اپنے آپ کو ہلاک کیا۔ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ بچے بیچ کر زندہ بھی رہیں گے یا زندہ رہ کر اپنے والدین سے اعلیٰ اور قابل ہوں گے۔ماہم صرف ایک خیال اور امید کی بناء پر والدین جو کہ موجودہ حالت میں اپنی اولاد سے اعلیٰ تھے قربان ہو گئے۔یہ ہمیشہ ضروری نہیں کہ اونی اعلیٰ کے لئے قربان ہوتا ہے بلکہ بعض اوقات اس کے برعکس بھی ہوتا ہے۔ایک اعلیٰ شئے