خطبات محمود (جلد 3) — Page 68
مخطبات محمود YA جلد سوم تو ایسا ہوتا ہے کہ اس سے بچنے کے لئے ماں باپ کی گود میں ہی بچے گھتے ہیں۔لیکن چونکہ لفظ مشترک ہے اور خوفناک چیز سے جو اثر پیدا ہوتا ہے اس کو بھی ڈر ہی کہتے ہیں۔اس لئے ڈر کے معنی ڈر کرنے سے لوگوں کو اس سے دھوکا لگا ہے اور انہوں نے سمجھا ہے کہ خدا سے ڈرنے کا یہ مطلب ہے کہ خدا خوفناک چیز ہے۔اصل سنے تقوی کے حفاظت کے وہ سامان جمع کرنا ہیں جو ترقی کا موجب ہوں اور ہلاکت سے بچانے والے ہوں۔اس بات کو مد نظر رکھ کر تقویٰ اللہ کی حقیقت بخوبی معلوم ہو سکتی ہے مگر جب انسان ہمیشہ اور ہر وقت کسی نہ کسی چیز کے حاصل کرنے اور کسی نہ کسی چیز کو مصر سمجھ کر اس سے بچنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے تو خدا تعالی فرماتا ہے۔کیاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّلُوا رَبَّكُمُ الَّذِى خَلَقَكُم کے اے لوگو! اللہ کا تقوی لو۔اس گر کو حاصل کرو جس سے تمام مصیبتوں کے دروازے بند ہو جائیں اور تمام کامیابیوں کے دروازے کھل جائیں۔جب تم اس کے لئے اور کوششیں کرتے رہتے ہو تو کیوں خدا کو نہ کہو کہ ہماری سب مشکلات کو حل کر دے اور ہمیں ہر کام میں کامیاب کر دے۔یہ کامیابی حاصل کرنے اور ہلاکتوں سے بچنے کا سب سے اعلیٰ گر ہے کہ جس کے قبضہ قدرت میں سب کچھ ہے اس کے آگے انسان اپنے آپ کو ڈال دے۔دیکھو اگر ایک مکان میں کئی سوراخوں سے پانی آ رہا ہے تو ایک ایک کو بند کرنے کی بجائے پانی کے آنے کا راستہ بند کر دینا زیادہ مفید اور اچھا ہوتا ہے۔اسی طرح ایک ایک مصیبت اور مشکل کے دور کرنے کی بجائے اگر انسان خدا تعالی کے حضور جھک جائے جو تمام مصائب کو بند کر سکتا ہے تو انسان بالکل محفوظ ہو جاتا ہے۔تقویٰ کی تعلیم یوں تو ہر حالت کے متعلق ہے لیکن خصوصا نکاح کے موقع پر اس کی طرف بہت زیادہ توجہ دلائی گئی ہے اور رسول کریم ﷺ نے یہ آیات اس موقع پر پڑھنے کے لئے منتخب فرمائی ہیں۔وجہ یہ کہ نکاح کی وجہ سے کئی رستے مشکلات کے کھل جاتے ہیں اور کئی کامیابی کے رونما ہو جاتے ہیں۔اب بجائے اس کے کہ ان پر نظر ہو یہ ہونا چاہئے کہ خدا تعالی کو ہی پکڑو اور اسی کو کہو کہ ہمارے لئے جو کامیابی کا رستہ ہے اس پر چلا اور جو مصائب کا رستہ ہے اس سے بچا۔یہی وہ گر ہے جس سے انسان حقیقی خوشی حاصل کر سکتا ہے اور ہر قسم کی مشکلات اور مصائب سے بچ سکتا ہے۔اور ہر ایک نکاح کرنے والے کو یہی یہ نظریہ رکھنا چاہئے نکاح ایک