خطبات محمود (جلد 3) — Page 63
خطبات محمود ۶۳ جلد سوم قدر نہ تھی اس وقت کسی کی گائے بھینس یا دوسرا جانور مرتا تو چوہڑوں کو یونسی زمیندار دے دیتے تھے۔لیکن اب چڑے کی قیمت بڑھی تو زمیندار چوہڑوں کو چمڑہ دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے بلکہ ان کو کچھ تھوڑا بہت دے دلا دیتے ہیں۔ہڈیوں کی قدر ہمارے ملک والے اب تک کرنا نہیں جانتے مگر یورپ والوں نے ان کی قدر کی حتی کہ قبرستان تک کی ہڈیاں نکلوا کر لے گئے۔میں نے دلی میں ایسے قبرستان دیکھتے ہیں جہاں کے محافظوں سے سمجھوتہ کر کے وہاں کی ہڈیاں نکلوا کر یورپ والے لے گئے۔وہ دانے دار کھانڈ جس کو لوگ بڑے مزے سے کھاتے ہیں انہیں ہڈیوں سے تیار ہوتی ہے۔ہڈیوں سے اسے اس طرح صاف کیا جاتا ہے کہ تمام میل کٹ کر کثافت دور ہو جاتی ہے پھر انہی ہڈیوں سے فاسفورس نکالتے ہیں جو بہت قیمتی چیز ہے اور ہڈیوں کے دستے کنگھیاں وغیرہ بنتی ہیں۔مگر نہ جانے والے لوگ ان کے متعلق خیال کرتے ہیں کہ یہ ہاتھی دانت کی بنی ہوئی چیزیں ہیں۔اسی طرح ہمارے ملک میں چینی کے برتنوں کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ چین میں یہ خاص مٹی ہے جس سے یہ تیار ہوئے حالانکہ یہ اسی مٹی سے تیار ہوتے ہیں۔اس کو خاص ترکیبوں کے ماتحت لاکر چینی نکالتے ہیں۔غرض یہ سب علم ہیں جن کے جاننے والے چیزوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور نہ جاننے والے ان کو معمولی خیال کرتے ہیں۔اسی طرح نکاح کا معالمہ ہے اگر اس کے متعلق بھی علم نہ ہو تو انسان فوائد حاصل نہیں کر سکتا۔ہر ایک چیز جس کا علم ہو اس سے فوائد پہنچتے ہیں۔مثلا کھانے کی کیا غرض ہے جو نہیں جانتے وہ تو یہی کہیں گے کہ جب بھوک لگی کھالیا غرض کیا ہوئی۔مگر جنہوں نے غور کیا انہوں نے جان لیا کہ اس کے کیا فوائد ہیں اور اس سے انہوں نے علاج نکالے۔مثلاً ذیا بیٹس کے مرض کا علاج یورپ میں روزے رکھ کر کیا جاتا ہے۔اس سے علم طب بنا اور اسی لئے ہماری شریعت نے حرام حلال کی قید لگائی کہ انسان مفید کھائے اور مضر سے بچے۔اسی طرح نکاح کی بھی غرض ہے محض شہوت رانی نہیں۔جو لوگ شہوت رانی غرض سمجھتے ہیں غلطی کرتے ہیں۔یورپ کے لوگ جنہوں نے شادی کو محض اسی ایک جذبہ کے تحت رکھا ان کے بڑے بڑے ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ہماری نسلیں اس لئے کمزور ہیں کہ ہم شادی کی غرض سے ناواقف ہیں۔محض پیار محبت کی غرض نہیں کیونکہ محبت ایک فوری جذبہ ہے ، غصہ ایک فوری جذبہ ہے، شہوت ایک فوری جذبہ ہے، ان میں انسان مال اندیشی نہیں کرتا۔مثلاً محبت کے