خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 57

۵۷ کرے تو وہ مسلمانوں کے نزدیک احادیث کا منکر بنتا ہے۔نبی کریم ﷺ کے وقت میں منافقین جو مسلمان کہلاتے تھے آپ پر خفیہ ہی خفیہ گندے سے گندے الزام لگاتے تھے۔آپ کے اخلاق اور چال چلن پر اعتراض کرتے تھے جیسا کہ حضرت مسیح موعود کے وقت میں بھی بعض احمدی کہلانے والے آپ پر الزام لگاتے تھے مثلاً نبی کریم کے متعلق مشہور کر دیا تھا کہ آپ اپنی (پھوپھی زاد) بہن کو دیکھ کر اس پر عاشق ہو گئے۔پہلے پہل تو ان لوگوں میں ایسی باتیں ظاہر کرنے کی جرات نہ تھی۔مگر کچھ عرصہ کے بعد یہی باتیں حدیثیں بن گئیں اور کتابوں میں نقل ہونے لگیں۔غرض رسول اور ایسا رسول اور استاد اور ایسا استاد کہ جو بے نظیر ہے۔اس پر بھی اعتراض جڑ دیئے۔اسی طرح بیسیوں باتیں ہیں جو کہ آپ کے متعلق کتابوں میں لکھ دی گئی ہیں اور اب ان کو اپنے عقائد میں داخل سمجھا جاتا ہے۔اب رہے اعمال۔ان کی بھی صورت بدل گئی۔اعمال میں سے صرف نماز کو لیتا ہوں کہ سب سے بڑی عبادت ہے اس کو کچھ لوگ تو ایسی شکل دیتے ہیں کہ نماز ایک ورزش کی صورت بن جاتی ہے۔پھر ایک ایسی نماز ہوتی ہے کہ اس کے متعلق حضرت مسیح موعود ہمیشہ یہ مثال بتایا کرتے تھے کہ جیسے مرغ دانے چتا ہے۔یا تو عبادت ایسی سمجھی جاتی ہے کہ جب بیٹھے تو اٹھے نہیں۔ماتھے میں چٹاخ لگا ہوا ہو ، ہاتھ میں تسبیح ہو منکا ضرور کر رہا ہو خواہ منہ سے گالیاں ہی نکل رہی ہوں۔یہیں قادیان میں ایک شخص تھا وہ مرزا سلطان احمد صاحب کے باغ میں رہتا تھا۔احمدیوں کا سخت مخالف تھا اور سخت گندی گالیاں دیا کرتا تھا۔اس کے ہاتھ میں تسبیح ہوتی تھی جس کے دانے پر دانے گرتے رہتے تھے اور زبان سے اوسورا" وغیرہ گالیاں نکلتی جاتی تھیں۔گویا اللہ کے ذکر کی بجائے گالیوں کا ذکر تسبیح پر پڑھتا تھا۔پھر زکوۃ ہے اول تو خود دیتے ہی نہیں اور جو دیتے ہیں وہ عجیب عجیب حرکتیں کرتے ہیں۔ہمارے ملک میں زیادہ زکوۃ دینے والی خوجوں کی قوم ہے اس کے متعلق اپنے ملک کا حال حضرت خلیفہ اول اس طرح سنایا کرتے تھے کہ وہ ہزاروں روپے زکوۃ نکالتے لیکن گھڑے میں ڈال کر اوپر دانے ڈال دیتے اور مسجد کے سی طالب علم کو بلا کر کھانا کھلاتے اور کہتے۔میاں طالب علم اس گھڑے میں جو کچھ ہے وہ ہم نے تیری ملک کیا۔جب وہ قبول کر لیتا تو اسے کہتے۔اچھا تم اسے کہاں کہاں لئے پھرو گے۔ہمارے پاس ہی بیچ دو اور پھر دو چار روپیہ میں خرید لیتے۔گویا وہ اس طرح خدا کے فرض سے سبکدوش ہو جاتے اور رقم بھی ہاتھ سے نہ جاتی۔