خطبات محمود (جلد 3) — Page 53
خطبات محمود 10 بلد وم لوگ ان کو بتاتے ہیں کہ رات اٹھ کر تم نے فلاں کام کیا بہت سے بچے اسی طرح اٹھ کر گھروں سے چلے جاتے ہیں۔ غرض جو شخص سوتے سوتے اٹھ کر جنگل میں چلا گیا اور جب وہاں پہنچ کر اس کی آنکھ کھل گئی تو ممکن ہے کہ اس کے دل میں آئے کہ چلو ابھی رات زیادہ ہے چل کر سوئیں یا یہ کہ کوئی دوست قریب ہے اس سے مل لیں یا یہ کہ کوئی غریب آدمی ہے اس کی مدد کریں ۔ یا اگر بری طبیعت کا ہے تو خیال کرلے گا کہ کہیں ڈاکہ ڈالیں یا کسی سے دشمنی ہے تو اس کے کھلیان میں آگ لگا دیں یا اس کے کھیت سے کچھ چارہ کاٹ کر لے جائیں تو ایسے شخص کی کوئی غرض نہیں ہو سکتی۔ ایسی حالت میں جو اس کے دل میں آئے گا کرے گا۔ کوئی اس کو نہیں روک سکے گا۔ مگر برخلاف اس کے ایک دوسرا شخص ہے وہ الارم دے کر سوتا ہے کہ صبح اٹھ کر تہجد پڑھے گایا کوئی کام مثلاً تصنیف یا تالیف یا مطالعہ کرے گا تو جس وقت اس کی آنکھ کھلے گی وہ وہی کام کرے گا جو اس کی غرض اور مدعا ہے یا ایک ایسا شخص ہے کہ اس کو اس کے مالک نے درانتی دی ہے کہ وہ چارہ کاٹ کر لائے ۔ اگر وہ شخص دیانتدار ہے تو وہی کام کرے گا جس کے لئے اس کے آقا نے اس کو حکم دیا ہے۔ پس میں فرق اہل مذاہب اور بے مذہب لوگوں میں ہے۔ اہل مذاہب کہتے ہیں کہ وہ ایک غرض کے ماتحت یہاں آتے ہیں اور بے مذہب کہتے ہیں کہ ہمارے پیدا کئے جانے کی کوئی غرض اور مقصد نہیں ۔ ایک عیسائی خیال کرے گا کہ وہ اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ ابن اللہ کے کفارہ پر ایمان لاکر نجات حاصل کرے اور دنیا کو اس طرف لائے ۔ ایک ہندو اس مذہب کا پابند ہو گا کہ وہ خدا سے مکتی پائے ۔ ایک مسلم کا یہ عقیدہ ہو گا کہ وہ خدا کی عبادت کرنے اور اس کی رضا اور وصال حاصل کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور وہ یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ جو شخص اسلام کو قبول کرے گا اور اس کے احکام کی پابندی کرے گا اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرے گا اس لئے ایک مسلم جو سچا ہونے کا دعویدار ہے اسلام کو دنیا میں پھیلانے میں بے حد کوشش کرے گا لیکن کوئی مذہب یہ نہیں کہے گا کہ اس کی غرض وہ احکام منوانا ہے جو دنیا کے لئے ہی ہیں بلکہ وہ کہے گا کہ ان احکام کی پابندی سے خدا المتا ہے۔ یہی اصل ہے جس پر اسلام نے نکاح کے بارے میں انسان کو قائم کیا ہے ۔ ہر ایک کام کے اچھے نتائج پیدا ہونے کی تب ہی امید ہو سکتی ہے جب اس کی ابتداء میں ہی عمدہ بنیاد رکھی