خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 635 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 635

خطبات محمود ۶۳۵ جلد سوم سوکھ جاتے ہیں لیکن انگور کا درخت ہزار سال تک کی عمر بھی پالیتا ہے، بڑ کا درخت سینکڑوں سال تک چلا جاتا ہے اسی طرح جو بچے پیدا ہوتے نہیں ان کی مثال بالکل سبزہ یا روئیدگی کی طرح ہوتی ہے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کل کو یہ سبزہ کیسا ہو گا آیا چند دن بہار دینے کے بعد سوکھ جائے گا یا معمولی نظارہ کی لذت اس سے پیدا ہوگی۔جس طرح گھاس پیدا ہوتا ہے اور بعد میں جانوروں کو کھلا دیا جاتا ہے ایسے ہی یہ بچہ امراء اور ظالم حکام کا شکار بنا رہے گا۔نوکریاں کرتا پھرے گا، سٹیشن پر قلیوں کا کام کرے گا یا اس کی حالت اس سبزہ کی ہوگی جو خود بڑھتا ہے اور سینکڑوں آدمی اس کے سایہ کے نیچے آرام کرتے ہیں۔صرف دس ہیں یا پچاس سال تک کی عمر نہ ہوگی بلکہ دو سو، پانچ سو یا ہزار سال تک کی اس کی عمر ہو گی۔اس دنیا میں مادی لحاظ سے ایک آدمی پانچ سال تک نہیں جاتا لیکن روحانی لحاظ سے بعض دفعہ اس سے بھی زیادہ چلا جاتا ہے۔رسول کریم اس کو دعوٹی کئے ہوئے ۱۳۰۰ سال ہو چکے ہیں لیکن آپ کا زمانہ ختم نہیں ہوا بلکہ ابھی تک جاری ہے اور جاری رہے گا اس وقت تک جب تک دنیا آباد ہے بلکہ اس کے بعد بھی انسان ان کی تعلیم اور لائی ہوئی شریعت پر عمل کر کے اگلے جہان میں اعلیٰ زندگی حاصل کرے گا۔میں سمجھتا ہوں کہ روحانی تعلیم اور جسمانی روئیدگی میں مشابہت ہے۔آخر انسان کیا چیز ہے ایک گھاس یا سبزہ ہے جو جنگلوں میں اگتا ہے اس کو بیل گائے یا بکریاں کھاتی ہیں اور اسی گھاس سے گائے بیل کی مادہ دودھ دیتی ہے، اسی گھاس کو کھا کر ان کا نطفہ بنتا ہے، پھر بچھڑا پیدا ہوتا ہے، اسی گھاس کو کھا کر ایک بکرا اپنی نسل چلاتا ہے، دنبہ کھا کر نسل چلاتا ہے اور اسی گھاس کو کھا کر ایک بکری دودھ دیتی ہے، پھر انسان اسی دودھ کو پیتا اور ان جانوروں کا گوشت بھی کھاتا ہے، پھر درختوں کے پھل بھی کھاتا ہے، یہی گھاس ہے جس سے جسم بنتا ہے، جس سے خون بنتا ہے، یہی گھاس ہے جس سے ہڈیاں بنتی ہیں، انہی چیزوں کے خلاصہ کا نام نطفہ ہے جس سے انسان بنتا ہے۔غرض یہی چیزیں ایک شکل بدل کر دائمی زندگی حاصل کرتی ہیں۔گھاس گھاس ہونے کی صورت میں دائمی نہیں بلکہ جانور میں جاکر گوشت اور دودھ بنتا ہے اور پھر انسان اسے کھاتا ہے تو وہ انسان کا جزو بن جاتا ہے اور وہ انسان خدا تعالیٰ کے حکم پر چلنے کے بعد اور مرنے کے بعد نئی دائمی زندگی، ابدی زندگی اور نہ ختم ہونے والی زندگی حاصل کرتا ہے۔جو چیزا۔اگلے جہان میں جاتی ہے وہ خلاصہ ہوتی ہے اس روح کا جوان ترکاریوں اور سبزیوں