خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 615 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 615

خطبات محمود ۶۱۵ جلد سوم برداری کی جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ناز برداری کی وجہ سے دین کی روح ان کے اندر سے مٹ جاتی ہے۔قرآن مجید میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ شخص دیندار نہیں جو اپنی اولاد کی ناز برداری کرتا ہے اور اس کو دین کے تابع نہیں رکھتا دیندار وہ ہے جو اپنی اولاد کو دین کے تابع رکھتا ہے جو شخص اپنی اولاد کو دین کے تابع رکھے گا وہ کبھی اپنی نسل کو خراب نہیں ہونے دے گا کیونکہ ناز برداری سے ہی نسلیں خراب ہوتی ہیں۔پس اسلامی زندگی میں اہم ترین چیز نکاح ہے جیسے عمارت کے لئے بنیاد کھودی جاتی ہے اور اس کو کوٹا جاتا ہے لیکن اگر بنیاد پختہ نہیں ہوگی تو عمارت گر جائے گی۔اسی طرح اگر نکاح میں غور و فکر اور دعا سے کام نہ لیا جائے تو نکاح بھی بربادی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا گویا وہ چیز جس سے خوشی ہو رہی ہوتی ہے در حقیقت رہی خطرے کا وقت ہو تا ہے۔بسا اوقات نکاح پر لوگ خوش ہو رہے ہوتے ہیں گھر میں خوشی کی لہر دوڑ رہی ہوتی ہے کہ ہم آبادی کا سامان کر رہے ہیں مگر آسمان کے فرشتے رو رہے ہوتے ہیں کہ آبادی کی نہیں بلکہ یہ بربادی کی بنیاد قائم کر رہے ہیں۔پس مومن کو ہمیشہ ڈرتے ہوئے قدم اٹھانا چاہئے۔میں آج جن چند نکاحوں کا اعلان کرنے لگا ہوں ان میں سے چار میرے اپنے بچوں کے نکاح ہیں۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس قول کے پورا کرنے کے لئے غموں کا ایک دن اور چار شادی فَسُبْحَانَ الَّذِي اخْزَى الاعادي یہ چار نکاح اکھٹے رکھے ہیں۔یہ چار نکاح خلیل احمد ، حفیظ احمد ، امتہ الحکیم اور امتہ الباسط کے ہیں۔ان میں سے تین کی والدہ فوت ہو چکی ہیں اللہ تعالی کے اختیار میں ہے اور اس کے قبضہ میں ہے کہ اس نے جس طرح ہمیں غموں کا ایک دن اور چار شادیاں دکھائی ہیں وہ ان کی روحوں کو بھی خوش اور مسرور کر دے۔میں نے اپنے بچوں کے نکاحوں میں کبھی بھی اس بات کو مد نظر نہیں رکھا کہ ان کے نکاح آسودہ حال اور مالدار لوگوں میں کئے جائیں اور میں نے ہمیشہ جماعت کے لوگوں کو بھی یہی نصیحت کی ہے کہ جماعت کے لوگ اس بات کی طرف چلے جاتے ہیں کہ انہیں ایسے رشتے میں جو زیادہ کھاتے پیتے اور آسودہ حال ہوں۔ہمیں ایسے رشتے ملے ہیں مگر ہم نے ان کو رد کر دیا تاکہ ہمارا جو معیار ہے وہ قائم رہے۔میں نے ایک ہی رشتہ زیادہ