خطبات محمود (جلد 3) — Page 614
خطبات محمود ۶۱۴ جلد سوم اور اگر آئندہ نسل اچھی نہ ہو تو اس کی تمام فتوحات بیچ اور لغو ہیں۔میں ہمیشہ حیران ہوا کرتا ہوں کہ وہ کونسی چیز ہے جس کی وجہ سے انگریز جیت جاتے ہیں اور دوسری قومیں ہار جاتی ہیں۔انگریزوں میں اور دوسری قوموں میں یہی فرق ہے کہ انگریز قوم موجودہ کی نسبت آئندہ نسل پر زور دیتی ہے اس لئے انگریزی قوم یہ اعتبار رکھتی ہے کہ اگر ہمارے بڑے لوگ مرگئے تو اس کی جگہ دوسرے بڑے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو ان کے قائم مقام ہوں گے اس لئے وہ ڈرتی نہیں کہ اگر آج ہمارے بڑے لوگ مرگئے تو کل بڑے لوگ پیدا نہیں ہوں گے بلکہ وہ جانتی ہے کہ اگر آج ہمارے بڑے لوگ مر جائیں گے تو کل ان کے قائمقام دوسرے لوگ کھڑے ہو جائیں گے۔مگر دوسری قوموں کو یہ امید نہیں ہوتی مثلا فرانس میں نپولین اٹھا اور اس نے یہ کوشش کی کہ آٹھ دس سال میں تمام یورپین ممالک کو فتح کرلے یہ خیال اس کے دل میں تبھی پیدا ہوا کہ وہ جانتا تھا کہ اگر نپولین مرگیا تو فرانس میں دوسرا نپولین پیدا نہیں ہو گا۔اگر ہٹلر نے جلد بازی کی تو اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ ہٹلر کے دل میں یہ خیال تھا کہ میرے بعد جرمنی میں دوسرا ہٹلر پیدا ہونے کی امید نہیں، اگر مسولینی کو ذلت اٹھانی پڑی تو اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ مسولینی کے دل میں یہ خیال تھا کہ اگر مسولینی مرگیا تو اٹلی کو ابھارنے والا دو سرا مسولینی پیدا نہیں ہو گا۔لیکن انگلستان کا ہر فرد یہی سمجھتا ہے کہ اگر میرے زمانہ میں فتوحات حاصل نہ ہو ئیں تو آئندہ آنے والے لوگ ان کو حاصل کریں گے۔وہ خیال نہیں کرتے کہ اگر آج لائڈ جارج مر گیا یا چرچل مر گیا تو کل دوسرا لائڈ جارج یا دوسرا چر چل پیدا نہیں ہو گا بلکہ وہ جانتے ہیں کہ انگلستان میں ہر روز نئے لائیڈ جارج اور نئے چرچل پیدا ہوتے رہیں گے اس لئے ان کے لئے جلد بازی کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔پس قوموں کی ترقی ان کی آئندہ نسلوں کی ترقی پر منحصر ہوتی ہے اس لئے ہمارا زور اس بات پر ہونا چاہئے کہ آئندہ نسلوں میں ہم اپنے اچھے قائم مقام چھوڑیں جو اسلام کی ترقی اور اسلام کے مستقبل کے ضامن ہوں۔سب سے زیادہ یہ چیز نکاح سے ہی حاصل ہوتی ہے اور نکاحوں سے ہی نئی نسل آتی ہے اس لئے نکاح انسانی زندگی کا سب سے اہم کام ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے نکاح کے بارے میں استخارہ کرنے، غور و فکر سے کام لینے اور جذبات کی پیروی کرنے سے روکنے کی تعلیم دی ہے اور آپ نے فرمایا ہے کہ نکاح ایسے رنگ میں ہونے چاہئیں کہ نیک اور قربانی کرنے والی اولاد پیدا ہو۔پھر فرمایا۔ساری خرابی اس وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ اولاد کو مقدم رکھا جاتا ہے اور اس کی ناز