خطبات محمود (جلد 3) — Page 589
خطبات محمود ۵۸۹ جلد سوم عورت سے شادی ہو جس سے اولاد نہیں ہو سکتی۔فیچر ایک ایسا جانور ہے جس سے بالطبع کچھ نفرت سی پیدا ہوتی ہے اور اس لئے اللہ تعالیٰ کی حکمت نے اس کی بجائے شتر مرغ دکھا دیا جس کے لئے عربی میں لفظ مکا مة ہے جو نعمت سے نکلا ہے جس سے اس طرف اشارہ کیا کہ اللہ تعالٰی اس خواب کی مورد کی اصلاح فرما کر اسے نعمت و رحمت کا موجب بنا دے گا۔غرض اس رویا میں ایک ہی چیز کی دو مختلف صورتیں بتائی گئیں اور بتایا گیا کہ پہلے کچھ بری باتیں پیدا ہوں گی مگر بعد میں نیک صورت پیدا ہو جائے گی۔اس کے بعد میں نے پھر استخارہ کیا تو میں نے ایک رؤیا دیکھی جو شائع نہیں ہوئی۔میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ گیا ہوں ایک بہت بڑا احاطہ ہے جس میں ایک شخص رہتا ہے اور اس احاطہ میں پانچ چھ چارپائیاں بچھی ہیں جو اس کے خاندان کے لوگوں کی ہیں۔وہ شخص مجھے کہتا ہے کہ آپ یہیں ٹھہریں یہ کہہ کر وہ خود باہر چلا گیا اور پھر نہیں لوٹا۔میں وہاں ٹہل رہا ہوں وہاں میں نے دو چار پائیاں الگ بچھی ہوئی دیکھیں اور ان میں سے ایک پر میں نے بشری بیگم صاحبہ کی بہن ناصرہ بیگم صاحبہ کو لیٹے دیکھا اس سے بھی میں نے سمجھا کہ اس خواب کی تعبیر اسی خاندان سے وابستہ ہے۔مگر یہ بات میری سمجھ میں نہ آئی کہ وہ آدمی گیا ہے تو پھر لوٹا کیوں نہیں گو بعد کے واقعات نے اس کی تعبیر ظاہر کر دی کیونکہ برادرم عزیز اللہ شاہ صاحب پہلے تو اس رشتہ پر راضی ہو گئے مگر بعد میں سیدہ بشری بیگم کی گھبراہٹ کی وجہ سے وہ بھی متردد ہو گئے بلکہ عجیب بات یہ ہے کہ جب با قاعدہ پیغام دیا گیا تو اس وقت دورہ پر چلے گئے تھے اور میں نے پھر تخارہ جاری رکھا اور پھر میں نے وہ رویا دیکھی جو ۲۰۔جون ۱۹۴۴ء کے الفضل میں شائع ہو چکی ہے اور جس میں میں نے دیکھا کہ میں ایک ایسی جگہ گیا ہوں جہاں میں سمجھتا ہوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی پناہ لی تھی وہاں دو بار مجھے سید ولی اللہ شاہ صاحب ملے ہیں۔پہلی بار تو وہ اپنے کام کی رپورٹ سنائے بغیر گذر گئے ہیں اور دوسری بار انہوں نے کہا کہ میں جب آیا تھا تو میرے ساتھ میری بیوی کے علاوہ خاندان کی کچھ مستورات بھی تھیں اور میں ان کو چھوڑنے چلا گیا۔ایک نام انہوں نے اپنی بیوی سیارہ حکمت صاحبہ کا لیا اور دوسرا نام جو لیا اس کا ایک حصہ میں نے ظاہر نہیں کیا تھا اور صرف غلام مرزا بتایا تھا جو شائع ہو چکا ہے مگر اصل میں انہوں نے بشری غلام مرزا کہا تھا مگر خواب بیان کرتے وقت میں نے بشری کا لفظ اڑا دیا تا لوگوں کو ابھی میرے ارادہ کا علم نہ ہو۔( تعجب ہے بعض لوگوں کو پھر بھی علم ہو ہی گیا۔معلوم نہیں کس طرح